سینٹ خزانہ کمیٹی کا منی لانڈرنگ قانون میں مزیدترمیم بارے بل پر شق وارغورشروع ، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

سینٹ خزانہ کمیٹی کا منی لانڈرنگ قانون میں مزیدترمیم بارے بل پر شق وارغورشروع ، بل کوحتمی شکل دینے سے قبل آئینی ماہرین سے مشاورت کے علاوہ ملک بھرکی تاجر تنظیموں سے تجاویزبھی طلب، دہشت گردتنظیموں کومبینہ ترسیل ہونے والے ایک ارب سے زائدکی رقوم بینک نے روک دی ہے ،سٹیٹ بینک حکام کا انکشاف،منی لانڈرنگ قانون سے قبل ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعدادگیارہ لاکھ تھی جواب کم ہوکرصرف آٹھ لاکھ رہ گئی ہے، صغری امام

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔17جنوری۔2015ء)سینٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و اقتصادی امور نے منی لانڈرنگ قانون میں مزیدترمیم بارے بل پر شق وارغورشروع کردیاہے ، تاہم کمیٹی نے بل کوحتمی شکل دینے سے قبل ملک کے اکثرآئینی ماہرین سے مشاورت کے علاوہ ملک بھرکی تاجر تنظیموں سے تجاویزبھی طلب کرلی ہیں جبکہ سٹیٹ بینک حکام نے انکشاف کیاہے کہ دہشت گردتنظیموں کومبینہ ترسیل ہونے والے ایک ارب سے زائدکی رقوم بینک نے روک دی ہیں ،ترمیمی بل میں منی لانڈرنگ کوروکنے کیلئے قانون نافذکرنے والے اداروں کومزیداختیارات دینے کی تجاویزدی ہیں تاکہ ملک سے خزانہ باہرنہ جاسکے ۔

بینکوں کے سربراہ نے بتایاکہ بیرونی ممالک بینک پاکستان سے کاروبارکرنے اوررقم کی ترسیل پرتحفظات رکھتے ہیں اورایل سی کھولنے میں بھی شدیدمشکلات ہیں ۔کمیٹی کی اہم رکن سیدہ صغری امام نے بتایاکہ ملک میں قوانین کی کمی نہیں ہے ،ضرورت قوانین پرعملدرآمدہے ،منی لانڈرنگ قانون سے قبل ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعدادگیارہ لاکھ تھی جواب کم ہوکرصرف آٹھ لاکھ رہ گئی ہے۔کمیٹی کااجلاس جمعرات کو سینیٹرنسرین جلیل کی صدارت میں ہوا۔

اجلاس میں سینیٹرصغری امام ،سینیٹرحاجی عدیل ،سینیٹرطلحہ محمود،سینیٹرعثمان سیف اللہ سینیٹرسلیم مانڈی والااورسینیٹرفتح محمدحسنی نے شرکت کی ۔اجلاس کوسیکرٹری خزانہ اوروقارمسعوداورگورنرسٹیٹ بینک نے منی لانڈرنگ بل پربریفنگ دی ۔سٹیٹ بینک نمائندہ نے کہاکہ قانون نافذکرنے والے ادارے کواس بات کاپابندبنایاگیاہے کہ وہ ماہانہ بنیادوں پرتحقیقات کی رپورٹ سٹیٹ بینک کوآگاہ کرے تاکہ چیک اینڈبیلنس کانظام بہترہوسکے ۔

سٹیٹ بینک نے کہاکہ عدالت کے فیصلہ تک ملزم کی جائیدادبینک کے پاس موجودرہے گی ،جس پرسینیٹرحاجی عدیل نے احتجاج کیااورکہاکہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔سیکرٹری خزانہ وقارمسعودنے اس کادفاع کیاکہ یہ حق عدالت کودیاجارہاہے ۔وقارمسعودنے کہاکہ جائیدادبچانے کیلئے اس کے مساوی کوئی ضمانت بینک کودے سکتاہے ،تاہم حاجی عدیل نے اس پربھی احتجاج کیا،ملزم کوتمام انسانی حقوق ملنے چاہئیں ۔سٹیٹ بینک نمائندہ نے کہاکہ نئی ترمیم کے تحت منی لانڈرنگ قانون کوسخت کیاجارہاہے ،تاہم اس قانون کے تحت تمام اختیارات عدالت کوحاصل ہیں تاہم اس ملزم کومتنازعہ جائیدادپرآنے والافائدہ حاصل رہے گا۔

سینیٹرسیدہصغری امام نے کہاکہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16-01-2015 :تاریخ اشاعت