افغان حکومت نے پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث ملزمان کی گرفتا ر ی کی تصدیق ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
پچھلی خبریں - مزید خبریں

نوشہرہ

تلاش کیجئے

افغان حکومت نے پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث ملزمان کی گرفتا ر ی کی تصدیق کردی ، تفتیش کے بعد پاکستان کے حوالے کر دیئے جائینگے ،اسفندیا ر ولی خان ،دونوں ممالک کے درمیان برف پگھل رہی ہے ،دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغانستان ،پاکستان میں مفاہمتی پالیسی اشد ضروری ہے ،32 گاڑیوں کے قافلے میں چہلم سے قبل نئی نویلی دلہن کیساتھ آنیوالے کپتان کی آمد پر والدین کا یہی ردعمل ہونا تھا،تحریک انصاف کی حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے،اے این پی اگر احتجاج کر تی تو عمران خان اٹک سے ہی داخل نہ ہوسکتے ،کپتان چار حلقوں کیلئے جوڈیشل کمیشن مانگ رہے ہیں، سانحہ پشاور میں 150شہداء کیلئے صوبائی حکومت نے کوئی جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا،ملک بچانے کیلئے غیر معمولی فیصلے کرنا وقت کی ضرورت ہے ،ہمیں تلخ گھونٹ پینے ہونگے ،عمران خان کیخلاف احتجاج مکافات عمل ہے ،اے این پی کو ملوث کرنا بدنیتی ہے، تین ماہ تک احتجاجی دھرنے دینے والے کپتان ایک گھنٹے کا احتجاج برداشت نہ کرسکے ،اکوڑہ خٹک میں مسعود عباس خٹک کی والدہ ، جان محمد خٹک کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو

نوشہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔17جنوری۔2015ء) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیا ر ولی خان نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث پانچ ملزمان کی گرفتا ر ی کی تصدیق کردی ہے ، تفتیش کے بعد ملزمان پاکستان کے حوالے کر دیئے جائینگے جو خوش آئند بات ہے، دونوں ممالک کے درمیان برف پگھل رہی ہے ،دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغانستان ،پاکستان میں مفاہمتی پالیسی اشد ضروری ہے ، 32 گاڑیوں کے قافلے میں چہلم سے قبل نئی نویلی دلہن کیساتھ آنیوالے کپتان کی آمد پر والدین کا یہی ردعمل ہونا تھا،تحریک انصاف کی حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے اے این پی اگر احتجاج کر تی تو عمران خان اٹک سے ہی داخل نہ ہوسکتے ،کپتان چار حلقوں کیلئے جوڈیشل کمیشن مانگ رہے ہیں، سانحہ پشاور میں 150شہداء کیلئے صوبائی حکومت نے کوئی جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا،ملک بچانے کیلئے غیر معمولی فیصلے کرنا وقت کی ضرورت ہے ،ہمیں تلخ گھونٹ پینے ہوں گے ،عمران خان کیخلاف احتجاج مکافات عمل ہے ،اے این پی کو ملوث کرنا بدنیتی ہے، تین ماہ تک احتجاجی دھرنے دینے والے کپتان ایک گھنٹے کا احتجاج برداشت نہ کرسکے ۔

وہ اکوڑہ خٹک میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء سابق وزیر مسعود عباس خٹک کی والدہ اور سابق صوبائی وزیر جان محمد خٹک کی ہمشیرہ کی وفات پرفاتحہ خونی کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے اس موقع پر اے این پی مرکزی سکرٹری جنرل میاں افتخار حسین صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلی حید ر ہوتی صوبائی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور صوبائی رہنماء اور سابق ممبر قومی اسمبلی حمایت اللہ میار بھی موجود تھے اسفندیار ولی خان نے کہا افغانستان نے کنڑ میں دہشت گردوں کیخلاف فوجی اپریشن شروع کر دیا ہے افضان صدر اشرف غنی اور ارمی چیف ڈی جی ائی ایس ائی کی ملاقات کا علم فرشتوں کو ہے مجھے نہیں تاہم افغانستان کی حکومت مخلصانہ کوششیں کر رہی ہے ہم دہشت گردی کے حوالے سے جو کچھ کہ رہے تھے خطے میں قیام امن کیلئے افغانستان اور پاکستان دونوں کو مل بیٹھ کر باہمی مشاورت سے فیصلے کرنے ہونگے دونوں ممالک میں اعتماد کی فضا ء خوش آئند ہے ہم نے ہمیشہ ہمسائیوں کیساتھ بر ابری کی بنیاد پر تعلقا ت کی بات کی ہے بھارت کیساتھ تمام مسائل مزاکرات کے ذریعے مسائل کا حل برابری کی بنیا د پر تلاش کیا جائے شملہ اور تاشقند معاہدے ہو سکتے ہے تو ایک اور معاہدہ بھی ہو سکتا ہے ہم جو بات پہلے کہتے تھے اج پوری سیاسی اور عسکری قیادت اس نقطے پر متفق ہو چکی ہے اسفند یار ولی خان نے کہا کہ ائی ڈی پیزکیلئے امریکی امدا د کا خیر مقدم کر تے ہے یہ رقم متاثرین کی واپسی ان کے نقصانات کے ازالے گھروں اور انفرسٹرکچر پر خرچ کئے جائے ہم پہلے ہی کہتے کہ انہوں نے عمران خان اور تحریک انصاف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے احتجاج کرکے سانحہ پشاور کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اسفندیار ولی نے کہا کہ تحریک انصاف کے الزام پہ تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہنے پہ تو میں اس کی زبان پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا الزام تو جو بھی ہو لیکن اگریہ اے این پی کرتی تو اے این پی کا تو آپ کو پتہ ہے تو سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا ہو کہ اس کی گاڑی بھ ی وہاں سے گزرتی ابھی بچوں کا چہلم نہی ہوا اور کپتان نے شاد ی رچا لی ہمارے روایات یہ ہے کہ چہلم سے پہلے خاندان میں کوئی شادی کرلے تو اس سے پورا خاندان قطع تعلق کرلیتا ہے یہ کہنا کہ یہ سیاست ہے کون سنگ دل باپ یا ماں ہوگا جو اس پر سیاست کریں عمران خان جب شادی سے فارغ ہوئے تو تب بچوں کی یاد آئی اگر اس پر والدین ان پر ری ایکشن نہیں کرتے تو پھر کس پر کرتے اسفندیار ولی خان نے عمران خان کے پروٹوکول کے حوالے سے کہا اگر ایسے ا جلوس میں نواز شریف گزرتے ہے تو اس کو بھی گالیاں پڑتی ہے اور کتنے بڑے جلوس اور پروٹوکول میں آتا ہے عمران خان کا اتنا بڑا پروٹوکول اور جلوس اسلام اباد میں نہں دیکھا جتنا پروٹوکول خیبر پختونخواہ میں دیکھاوالدین کی یہ بات کہ انہں فحش گالیاں دی گئی یہ کونسی تہذیب ہے کیا یہ نیا پاکستان ہے اگر یہ نیا پاکستان ہے تو ہمیں نیا پاکستان نہں چاہئے ایک ایسا پاکستان جو پختون کلچر اور روایات کے خلاف ہو ہمیں ایسا پاکستان ہر گز قبول نہیں انہوں نے کہا کہ خود کپتان خواتین کی موجودگی میں تو تین مہینے لوگوں کو گالی دیتے رہے لیکن جب اپنی باری ائی تو تین منٹ تک شہداء کے والدین کا جائز احتجاج بھی براداشت نہیں کیا عمران خان کی دوبار احتجاج کی کال عجیب ہے چار حلقوں کیلئے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کررہے یہاں ایک سو پچاس طلباء شہید ہوئے ان کیلئے کوئی جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا جو بچے شہید ہوئے ہے ان میں تمام سیاسی جماعتوں کے بچے شامل ہے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے عمران خان واویلا کر رہاہے اسفندیار ولی خان نے یہ الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ارمی پبلک سکول کے سامنے اے این پی مسلم ن کے کارکنوں نے احتجاج کیا اگر اے این پی احتجاج کرتی تو میں خودقیادت کرتا یا میرے ساتھ میاں افتخار حسین یا حیدر ہوتی ہوتے اور میں دیکھتا کہ عمران خان کیسے پشاور میں داخل ہوتے اور احتجاج کرتے انہوں نے کہا کہ جب ہم خون دے رہے تھے تو سارے لوگ کہتے کہ یہ پرائی جنگ ہے یہ وقت آپس کی لڑائیوں کا نہیں ہے یہ وقت اتفاق کا ہے جو ایک فضا ء گورنر ہاؤ س میں بنی تھی سب سیا سی جماعتوں سے یہی توقع ہے کہ اُس فضا کو قائم رکھے جو بھی اس فضاء کو خراب کریگاتو وہ اس ملک اور اس ملک کے عوام کو نقصان کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا ۔

16-01-2015 :تاریخ اشاعت