جسٹس جواد ایس خواجہ کا عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کے حوالے سے وزیر ا عظم کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

جسٹس جواد ایس خواجہ کا عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کے حوالے سے وزیر ا عظم کے بیان پر اظہار برہمی،عدالتوں میں مقدمات کے زیرالتواء رہنے کی ذمہ دار عدالتیں نہیں خود سرکار ہے‘ حکومت خود کو نااہل قرار دے کر بھی تمام تر الزامات عدالتوں پر تھوپ دیتی ہے، جب ملزمان کیخلاف شہادتیں اکٹھی نہیں ہوں گی‘ چالان مکمل نہیں ہوں گے تو ملزمان عدالتوں سے بری ہوتے رہیں گے ،عوام الناس کو انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے عدالتیں اپنا کام کریں یا حکومت کا اگر حکومت نے اپنا کام نہیں کرنا تو عدالت کو ہی حکومت کرنے کا اختیاردید ے ،جسٹس جواد ایس خواجہ کے چکوال کے رہائشی حیدر علی کے مقدمے کی سما عت کے دورا ن ریما رکس ،فوجی عدالتیں بنانے کی کوئی ضرورت نہیں‘ کیا فوجی عدالتوں میں بیٹھنے والے جج موجودہ عدلیہ میں بیٹھے ججز سے زیادہ ذہین اور قابل ہیں کہ وہ سارے مسائل کا خاتمہ کردیں گے‘ جسٹس سرمد جلال عثمانی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔17جنوری۔2015ء) سپریم کورٹ میں چکوال کے رہائشی حیدر علی کو پولیس حکام کی جانب سے مقدمہ بازی میں الجھانے کے مقدمے میں دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے جمعرات کے روز عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کے حوالے سے شائع ہونے والے بیان پر سخت ردعمل اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کے زیرالتواء رہنے کی ذمہ دار عدالتیں نہیں خود سرکار ہے‘ حکومت خود کو نااہل قرار دے کر بھی تمام تر الزامات عدالتوں پر تھوپ دیتی ہے‘ ایک طرف سرکار کہتی ہے کہ ان کی اپنی نااہلی ہے کہ وہ موثر قانون سازی نہیں کرسکتی دوسری طرف کہہ رہی ہے کہ عدالتیں اپنا کام نہیں کرتیں‘ جب ملزمان کیخلاف شہادتیں اکٹھی نہیں ہوں گی‘ چالان مکمل نہیں ہوں گے ملزمان عدالتوں سے بری ہوتے رہیں گے جبکہ دوران سماعت جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتیں بنانے کی کوئی ضرورت نہیں‘ کیا فوجی عدالتوں میں بیٹھے جج موجودہ اعلی عدلیہ میں بیٹھے ججوں سے زیادہ ذہین‘ فرض شناس اور قابل ہیں کہ وہ سارے مسائل کا خاتمہ کردیں گے‘ عدالتوں میں عملہ کم ہے انہی عدالتوں میں مسائل ختم کرنے کی ضرورت ہے‘ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ عوام الناس کو انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

عدالتیں اپنا کام کریں یا حکومت کا بھی کام کریں۔ اگر حکومت نے اپنا کام نہیں کرنا تو عدالت کو ہی حکومت کرنے کا اختیار بھی دے دے۔ اگر گریڈ 17 سے اوپر کے تمام پولیس افسران نیک پاک ہیں اور باقی سب نااہل اور نکمے ہیں۔ آج تک پولیس کی زیادتیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اعلی پولیس افسران کو عوام پر ظلم رواء رکھنے کیلئے کلین چٹ دے دی گئی ہے۔ عدالت بارہاء کہہ چکی ہے کہ فوجداری قوانین میں خامیاں اور سقم ہیں۔

حکومت قانون سازی کیوں نہیں کرتی۔ حکومت اپنا کام کرتی تو آج مقدمات زیر التواء نہ ہوتے۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب خود کہہ رہے ہیں کہ 573 پولیس افسران اور ملازمین نااہل ہیں جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے 34 افسران بھی شامل ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں پر پردہ ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ 70 سالوں میں معاشرے میں ناسور کی صورت اختیار کرنے والے افسران کیخلاف اج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پولیس کو نظم و ضبط ہم نے نہیں خود حکومت نے سکھانا ہے۔ ایک مقدمہ کھولیں گے تو 50 ہزار اور مقدمات کھل جائیں گے‘ عدالتیں کسی کیساتھ فریق نہیں ہیں۔ حکومت عوام کیساتھ مذاق بند کرے یہ ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر سے کہا کہ آپ سرکار کے نمائندے ہیں انہیں جاکر بتائیں کہ وہ اپنا کام کرے‘ ہم اپنا کام کررہے ہیں۔ اگر تفتیش شفاف‘ منصفانہ اور ایماندارانہ طریقے سے کی جائے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔

آرٹیکل 154‘ 155 میں اگر قانون سازی کی ضرورت ہے تو وہ کی جائے ہم کسی پر اثرانداز نہیں ہونا چاہتے۔ شیخوپورہ میں کیا ہوا اور دوسرے علاقوں میں کیا ہورہا ہے۔ کیا حکومت کو وہ نظر نہیں آتا۔ گونگی بہری بچی کیساتھ زیادتی کے ملزمان کو بری کردیا گیا۔ اب تو وزیراعظم پاکستان گریڈ 18 سے اوپر کے ملازمین کیخلاف انضباطی کارروائی کے احکامات جاری کرسکتے ہیں۔ عوام پریشان ہیں عوام کو بھی تو پتہ چلنا چاہئے کہ ان کے عدالتوں میں مقدمات کیوں زیر التواء ہیں اور اس کے ذمہ دار کون لوگ ہیں۔

عدالتوں کا کام حقائق کی روشنی میں اور جمع کروائی گئی شہادتوں کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ عدالتیں کسی کو بے گناہ لٹکا نہیں سکتیں۔ حکومت قانون بنادے کہ غلطی بھی حکومت کی ہے مگر عدالتیں ملزمان کو بری نہ کریں۔ ایک پی ایس پی افسر سے پوچھا کہ 70 سالوں میں کسی بڑے افسر کیخلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے تو اس نے کہاکہ نہیں آج تک کوئی کاررروائی نہیں کی گئی۔ آٹھ ماہ میں پولیس نے غریب شخص کو وہ چکر دے رکھا ہے کہ کیا کہیں۔

اس کی بہن اور خود اس کو پولیس صبح سویرے بلالیتی ہے اور رات گئے تک بٹھا کر ذلیل و رسواء کرتی ہے۔ چالان نہیں بنتا شہادتیں اکٹھی نہیں کی جاتیں۔ سارے الزامات عدالتوں پر لگانا کسی طور پر درست نہیں ہے۔ ہم حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی نااہلی ہمارے سر تھوپے۔ عدالت نے حکومت پنجاب سے نااہل افسران کیخلاف کارروائی بارے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ وقفے کے بعد عدالت نے دوبارہ سماعت شروع کی تو جسٹس جواد نے کہا کہ اس کیس کو کسی اور دن کیلئے رکھ رہے ہیں ہم نے اعدادو شمار اکٹھے کئے ہیں۔

حکومت پنجاب کی رپورٹ بھی دیکھ لیں گے اہم بات یہ ہے کہ 2012ء‘ 2013ء اور نومبر 2014ء تک 66 فیصد جو پولیس تیار کرتی ہے اور پراسیکیوشن کا چالان پیش کرتی ہے جس کا نتیجہ رہائی کی شکل میں نکلتا ہے‘ 30 سے 33 فیژصد سزا ملنے کی شرح اس سے بھی کم ہے صرف 10 فیصد ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ سندھ میں 10 فیصد ہے۔ نظام کی خامی ہی ذمہ دار ہے۔ تفتیشی اداروں کی ناکامی ہے۔ حیدر علی کیخلاف غلط چالان پیش کیا گیا چالان پیش ہوگیا تو شہادت نہیں دی گئی۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ کیس مکمل نہیں ہوگا۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ جب شہادت نہ ہو تو کہہ دیا جائے کہ یہ کیس نہیں بنتا‘ مجسٹریٹ چالان کو مسترد کرسکتا ہے‘ ادارے تو اپنا کام پورا کریں اور اس کا ذمہ دار کسی اور کو نہ ٹھہرائیں‘ یہ پراپیگنڈہ ختم کریں‘ فوجی عدالتوں کے قیام کی کیا ضرورت ہے کیا وہ پہلی عدالتوں سے زیادہ متحرک ہوں گی‘ کیا ان کا قاضی ذہین ہوگا۔ ہمارے پاس عدالتیں کم ہیں‘ افرادی قوت بھی کم ہے۔

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16-01-2015 :تاریخ اشاعت