موبائل فون کمپنیوں کو 10کروڑ صارفین کی بائیومیٹرک نظام سے تصدیق کے لیے 14اپریل کی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

موبائل فون کمپنیوں کو 10کروڑ صارفین کی بائیومیٹرک نظام سے تصدیق کے لیے 14اپریل کی ڈیڈلائن، اس کے بعد تمام غیر تصدیق شدہ سمز کو بلاک کردیا جائے گا،ذرائع وزارت داخلہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔14جنوری۔2015ء ) موبائل فون کمپنیوں کو اپنے 10کروڑ صارفین کی بائیومیٹرک نظام سے تصدیق کے لیے 14اپریل کی ڈیڈلائن اس کے بعد تمام غیر تصدیق شدہ سمز کو بلاک کردیا جائے گا ۔ذرائع وزارت داخلہ ، تصدیق کا پہلا مرحلہ 12جنوری پیر سے شروع ہو چکاہے جو کہ 26فروری 2015ء تک جاری رہے گا ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو 14اپریل کے بعد پاکستان آنے کی صورت میں سم غیر تصدیق شدہ قراردی جائے گی،اس عرصے میں کراچی ،پشاور ،ڈیرہ اسماعیل خان ، ڈیرہ غازی خان ،فاٹا ،اور بلوچستان کے صارفین کی سمز کی تصدیق کی جائے گی جبکہ پاکستان کے دوسرے علاقوں کے ایسے صارفین کی سمز جو ایک شناختی کارڈ پر تین سے زیادہ ہوں جبکہ پہلے مرحلے کی غیر تصدیق شدہ سمز کو 27فروری کو بلاک کردیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے کو ذرائع نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے تمام موبائل فون کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے 10کروڑ سے زائد صارفین کی بائیومیٹرک نظام سے تصدیق کرلیں 14اپریل کے بعد تمام غیر تصدیق شدہ سمز کو بلاک کردیا جائے گا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) اور موبائل فون آپریٹر کے مابین بہت سی طویل میٹنگز اور وزارت داخلہ کی جانب سے واضح ہدایات کے بعد پاکستان کی تمام موبائل کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چودہ اپریل سے قبل دس کروڑ سے زائد موبائل صارفین کی سمز کی دوبارہ تصدیق کریں ۔

مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد تمام غیر تصدیق شدہ سمز کو بلاک کردیا جائے گا ۔تصدیق کا یہ عمل پیر سے شروع کردیا گیا ہے موبائل کمپنیوں کا تحمینہ کے مطابق موجودہ موبائل کنکشنز کو 41فیصد تصدیق نہ ہونے پر بلاک ہو سکتا ہے ۔ خبر رساں ادارے کو حاصل معلومات کے مطابق تصدیق کا پہلا مرحلہ 12جنوری پیر سے شروع ہو چکاہے جو کہ 26فروری 2015ء تک جاری رہے گا اس عرصے میں کراچی ،پشاور ،ڈیرہ اسماعیل خان ، ڈیرہ غازی خان ،فاٹا ،اور بلوچستان کے صارفین کی سمز کی تصدیق کی جائے گی جبکہ پاکستان کے دوسرے علاقوں کے ایسے صارفین کی سمز جو ایک شناختی کارڈ پر تین سے زیادہ ہوں جبکہ پہلے مرحلے کی غیر تصدیق شدہ سمز کو 27فروری کو بلاک کردیا جائے گا۔

جبکہ تصدیق کے دوسرا مرحلہ 27فروری 2015ء سے شروع ہو گا اس مرحلے میں ایسے صارفین کی سمز کی تصدیق کی جائے گی جو ایک موبائل آپریٹر کی ایک یا دو سمز رکھتے ہوں گے ۔ذرائع کے مطابق دوسرے مرحلے کی غیر تصدیق شدہ سمز کو 14اپریل کو بلاک کردیا جائے گا ۔ تمام غیر تصدیق شدہ سمز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کردیا جائے گا ۔کوئی بھی صارف اپنی بلاک شدہ سم کو صرف اس صورت میں حاصل کرسکے گا کہ وہ کسی اور کو فروخت نہ کی جاچکی ہوں ۔

اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے ایک آگاہی مہم بھی شروع کردی گئی ہے جس میں صارفین کو اپنی سم کی تصدیق کرانے کے لیے کہا جائے گا ۔اس حوالے سے صارفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قریبی فرنچائز یا کسٹمر سروس سے اپنی سم کی تصدیق کرائے کو ئی بھی صارف 668پر بغیر ڈیش کے ساتھ اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیج کر اپنے نام پر درج سمز کی تعداد معلوم کرسکتا ہے ۔ تاہم اس حوالے سے کوئی بھی صارف جب کسی فرنچائز یا کسٹمر کئیر سینٹر میں اپنے نمبر کی دوبارہ تصدیق کرانے جائے تو اپنے ساتھ اصل شناختی کارڈ ضرور لے جائے ۔

بائیو میٹرک سسٹم کی مدد سے صارف کے نام پر موجود تمام نمبرز کی فہرست صارف کے سامنے آجائیں گی ۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اس حوالے سے وہ 14اپریل کے بعد پاکستان آنے کی صورت میں اس کی سم غیر تصدیق شدہ قرار دے کربند کردی جائے گی جبکہ اس حوالے سے کسی صارف کے لیے کوئی رعایت نہیں رکھی گئی ہے ۔

14-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان