کسی ریاستی معاملے میں عدم شفافیت پر ہم سے رجوع کیاجائیگاتواس کاآئین وقانون کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

کسی ریاستی معاملے میں عدم شفافیت پر ہم سے رجوع کیاجائیگاتواس کاآئین وقانون کے مطابق فیصلہ دیناہماری آئینی ذمہ داری ہے ،جسٹس ثاقب نثار،عدالت نے توصرف یہ دیکھناہے کہ بولی شفاف طریقے سے لگائی تھی یانہیں،جسٹس اعجازافضل

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔14جنوری۔2015ء )سپریم کورٹ میں ریلوے گولف کلب کیس کی سماعت کے دوران جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی حکام اپنافرض صحیح طورپر ادانہیں کررہے ہیں اگر کلب کی کھلے عام بولی دی جاتی توممکن تھاکہ بولی اور بھی زیادہ لگ جاتی اور ریاست کوفائدہ ہوتا،کسی ریاستی معاملے میں عدم شفافیت پر ہم سے رجوع کیاجائیگاتواس کاآئین وقانون کے مطابق فیصلہ دیناہماری آئینی ذمہ داری ہے ،بادی النظر میں حکومت اورعوام دونوں کونقصان ہواہے ،ایک ہی دن میں سارے معاملات نمٹاکراس میں شک کی گنجائش پیداکردی گئی ہے ،چوررسید نہیں دیتا،جبکہ جسٹس اعجازافضل خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے کلب کی آمدن کاجائزہ نہیں لیناعدالت نے توصرف یہ دیکھناہے کہ بولی شفاف طریقے سے لگائی تھی یانہیں۔

انھوں نے یہ ریمارکس منگل کے روزدیے ہیں ،جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی توکامیاب بولی دہندہ کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کاآغازکیااورموقف اختیار کیاکہ ہم نے اس وقت ڈیڑھ ارب روپے کی سرمایہ کی جس وقت اس ملک میں فوجی حکومت آچکی تھی اور ساری معیشت تباہ وبرباد ہوچکی تھی ہم اب تک پانچ ارب روپے دے چکے ہیں اور آٹھ ارب روپے دینے کے لیے ہم اپنی بات پر قائم ہیں 2001کے حالات کوآج کے حالات سے موازنہ کرنازیادتی ہوگی ،ہم سے اب بھی گلہ ہے کہ وفادار نہیں ،اس پر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14-01-2015 :تاریخ اشاعت