امریکہ کا آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے 25 کروڑ ڈالرامداد کا اعلان ،طالبان ، حقانی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
تاریخ اشاعت: 2015-01-14
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

امریکہ کا آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے 25 کروڑ ڈالرامداد کا اعلان ،طالبان ، حقانی نیٹ ورک اور لشکرطیبہ دنیا بھر کیلئے خطرہ ہیں،دہشت گردوں میں تفریق نہیں ہونی چاہیے،جان کیری،پاک بھارت کشیدگی پر امریکا کو تشویش ہے، دونوں ممالک سفارتی ذرائع سے مسائل حل کریں ،تعلقات کو مثبت طریقے سے اگے بڑھاناپاکستان اوربھارت دونوں کے مفاد میں ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی تعاون جاری رہے گا، پاکستان نے ضرب عضب میں دہشت گردوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں،پاکستان کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات مستحکم کرنا چاہتے ہیں،سٹرٹیجک مذاکرات پاک امریکا دوستی کو مضبوط کریں گے ،پاک امریکا اسٹرٹیجک مذاکرات کے بعد مشرکہ پریس کانفرنس،حقانی نیٹ ورک کا انفراسٹرکچر تباہ کردیا،پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہاہے،سرتاج عزیز،کشمیر کے بغیرپاک بھارت مذاکرات کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بھارت علاقائی استحکام میں تعاون کرے،مشیر خارجہ، پاکستان امریکہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔14جنوری۔2015ء)امریکانے آئی ڈی پیز کی بحالی کیلیے 25 کروڑ ڈالرامداد کا اعلان کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہاہے کہ طالبان ، حقانی نیٹ ورک اور لشکرطیبہ دنیا بھر کیلیے خطرہ ہیں،دہشت گردوں میں تفریق نہیں ہونی چاہیے جبکہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کا انفراسٹرکچر تباہ کردیا،پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہاہے۔

پاک امریکا اسٹرٹیجک مذاکرات کے بعد دفتر خارجہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے پاکستان حقانی نیٹ ورک اور دوسرے گروپس کے خلاف کارروائی کرے، حقانی نیٹ ورک،لشکرطیبہ پاکستان،امریکااوردوسرے ممالک کیلئے خطرہ ہیں۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی پر امریکا کو تشویش ہے، دونوں ممالک سفارتی ذرائع سے مسائل حل کریں ،تعلقات کو مثبت طریقے سے آگے بڑھاناپاکستان اوربھارت دونوں کیمفاد میں ہے۔

جان کیری نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو صرف دہشت گرد ہی سمجھنا ہوگا ،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی تعاون جاری رہے گا، پاکستان نے ضرب عضب میں دہشت گردوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ جان کیری نے کہا کہ افغانستان میں بھی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات مستحکم کرنا چاہتے ہیں،اسٹرٹیجک مذاکرات پاک امریکا دوستی کو مضبوط کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان کے تعلقات میں بہتری پرخوشی ہے،افغانستان میں امریکا کا کردار کمزور ہوا،لیکن ختم نہیں ہوا ،چاہتے ہیں پاکستان اور افغانستان میں جمہوریت مضبوط ہو۔ جان کیری نے کہا کہ سانحہ پشاور پر امریکی حکومت اور عوام کو بہت دکھ ہوا ہے۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ پشاور میں بچوں او خواتین پر حملہ کرنے والے تنہا رہ گئے ہیں،سولہ دسمبر کو بچوں کے قتل پر ہر امریکی نے دکھ محسوس کیا، پشاور اسکول حملے میں ملوث مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانا ہے۔

جان کیری نے مزید کہا کہ پاکستان کو امریکی مارکیٹ تک رسائی دی جائے گی، پاکستان کیساتھ ملکر خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں،یہاں آنے پر خوشی ہوئی،۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات صرف تجارت اور انسداد دہشت گردی تک محدود نہیں ہیں۔ امریکہ نے گذشتہ پانچ سال میں تعلیم اور توانائی کے شعبے میں مدد کی‘ چونکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب جاری ہے لہٰذا امریکہ فاٹا میں تعمیرو ترقی کیلئے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر دے گا،مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایل او سی پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ پر پاکستان کا تحفظات کا اظہارکیا اور کہا کہ کشمیر کے بغیرپاک بھارت مذاکرات کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ بھارت نے حالیہ دنوں میں کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے۔ بھارت علاقائی استحکام میں تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر بھارت کیساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کشمیری راہنماؤں سے ملاقات کا بہانہ بناکر بھارت نے سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات خود معطل کئے۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ فاٹا میں تعمیر ترقی کیلئے ڈیڑھ ارب ڈالر کی ضرورت ہے ،فاٹا میں آپریشن کے دوران بہت نقصان ہوا ، آئی ڈی پیز کی واپسی میں 10سے 12 ماہ لگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں مربوط اورمضبوط آپریشن شروع کررکھاہے،پاکستان نے مغربی سرحد پر امن کیلئے ایک لاکھ 70 ہزار فوج تعینات کی۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کررہاہے،ضرب عضب میں حقانی نیٹ ورک کا کمانڈاینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کردیا۔ حقانی نیٹ ورک اب مغربی سرحد پر کارروائیاں نہیں کرسکتا۔ علاقے سے 90 فیصد دہشت گردی کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ پاکستان کیساتھ کھڑا ہے۔ مشیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو امریکی منڈیوں تک رسائی دی جائے۔ مشیر خارجہ نے بتایا کہ ملاقات کے دوران خطے کی صورت حال اور امن و امان کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی ، سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں سرحد پر ہونے والی بھارتی خلاف ورزیوں اور حملوں پر اپنے تحفظات سے امریکا کو آگاہ کیا، آج ہونے والی ملاقات میں اسٹریٹجک ڈئیلاگ کے ورکنگ گروپ کا جائزہ لیا گیا، سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ میں معیشت‘ توانائی‘ دفاع‘ ٹیکنالوجی اور سائنس کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈائیلاگز میں خطے میں قیام امن سمیت دیگر مجموعی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ ادھرپاکستان اور امریکہ نے طویل مدت مضبوط شراکت داری اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پائیدار دوستی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے اور افغان حکومت کی طرف سے طالبان اور تمام مسلح گروپوں کو سیاسی طریقوں سے اختلافات طے کرنے کی دعوت کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ اقتصادی ترقی ، توانائی ، تعلیم ، دفاع و سلامتی اور علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے،امریکہ نے دہشتگردوں اور مجرموں کے تمام نیٹ ورک اور پناگاہیں ختم کرنے کے بارے میں پاکستان کی یقین دہانیوں کا بھی خیر مقدم کرتے ہوئے آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کیلئے تقریباً پچیس کروڑ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ۔

پاکستان نے زور دیا کہ صرف امداد ہی نہیں بلکہ پاکستانی مصنوعات کو امریکی مارکیٹوں تک رسائی دینا بھی ضروری ہے ۔ سرتاج عزیز نے واضح کیا کہ اچھے اور برے اکثریت پسندوں میں کوئی فرق نہیں کیا جارہا جان کیری نے تمام متشدد انتہا پسندوں کیخلاف موثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کسی ملک کی سرزمین اپنے ہمسائیوں کو غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان اور امریکہ کے سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے بعد منگل کو یہاں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق وزراء خارجہ کی سطح پر سٹرٹیجک ڈائیلاگ کا آئندہ دور 2016ء میں ہوگا مشترکہ اعلامیے کے مطابق مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا ایک پرانے دوست کی حیثیت سے اسلام آباد آنے کا خیر مقدم کیا انہوں نے باہمی تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا ۔ جان کیری نے کہا کہ ایک مضبوط خوشحال اور جمہوری پاکستان مستحکم اور پرامن علاقے کے قیام کیلئے امریکہ کا اہم حلیف ہے دونوں ملکوں نے اس عزم کو دوہرایا کہ شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا جو علاقائی سلامتی اور استحکام کیلئے ناگزیر ہے دونوں رہنماؤں نے سٹرٹیجک ڈائیلاگ کی اہمیت پر بھی زور دیا جس سے مضبوط تعاون کی راہیں کھلتی ہیں ۔

جان کیری نے آرمی پبلک سکول پشاور میں سولہ دسمبر کو ہونے والے دہشتگردانہ حملے کے ضیاع پر افسوس پاکستانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے فوجی جوانوں اور شہریوں کی قربانیوں کی تعریف کی اور جامع و ٹھوس انداز میں اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے عزم اور اقدامات کو سراہا ۔انہوں نے دہشتگردوں اور مجرموں کے تمام نیٹ ورک اور پناگاہیں ختم کرنے کے بارے میں پاکستان کی یقین دہانیوں کا بھی خیر مقدم کیا دونوں رہنماؤں نے نظم و نسق میں بہتری ، ترقی کے فروغ اور قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے امور کا جائزہ لیا ۔

جان کیری نے پاکستان کے اقدامات کی حمایت جاری رکھنے اور بے گھر افراد کی بحالی و امداد کیلئے تقریباً پچیس کروڑ ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا اور کہا کہ مزید ضروریات پر بھی بات چیت جاری رہے گی ۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف امور پر بنائے گئے ورکنگ گروپس کی کارکردگی پر اطمینان

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14-01-2015 :تاریخ اشاعت