سینٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس ،نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں گزشتہ پانچ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سینٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس ،نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں گزشتہ پانچ سالوں میں 48ارب روپے کی خورد برد کی تحقیقات نیب سے کروانے پر اتفاق ہوا، اجلاس میں این ایچ اے کے چیئرمین کی کمیٹی کو این ایچ اے کے حوالے سے مکمل بر یفنگ،کمیٹی ارکان کا بھاری رقوم خرچ کرنے کے باوجود شاہراہوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہار افسوس، قائمہ کمیٹی کی نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات 47افسران کو واپس اپنے محکموں میں بھیجنے کی ہدایت، کمیٹی کا پاک چائنہ کوریڈور کا روٹ تبدیل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔13جنوری۔2015ء )نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں گزشتہ پانچ سالوں میں 48ارب روپے کی خورد برد کی تحقیقات نیب سے کروانے پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں اتفاق ہوا ہے ۔ سینٹ کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز چیئرمین کمیٹی سینیٹر داؤد خان اچکزئی کی سربراہی میں ہوا جس میں سینیٹر نثار محمد خان ، سینیٹر محمد یوسف بادینی ، سینیٹر حاصل خان بزنجو ، سینیٹر زاہد خان ، سینیٹر ہمایوں خان مندوخیل ،سینیٹر مختار احمد دھامرا نے شرکت کی ۔

اجلاس میں این ایچ اے کے چیئرمین شاہد اشرف تارڑ بھی شریک ہوئے اور انہوں نے کمیٹی کو این ایچ اے کے حوالے سے مکمل بریف کیا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں قومی شاہراہیں ، پلوں کی مرمت پر اڑتالیس ارب روپے خرچ ہوئے ہیں ۔ کمیٹی ارکان نے اتنی بھاری رقوم خرچ کرنے کے باوجود شاہراہوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ قومی خزانے سے بھاری رقم خرچ کرنے کے باوجود شاہراہوں پر آئے روز حادثات کیوں سامنے آرہے ہیں یہ بھاری رقم مرمت کے نام سے کرپٹ افراد نے لوٹی ہے جس کی تحقیقات اب چیئرمین نیب کو بھیجنی چاہیے تاہم سب کمیٹی آخری سفارش آنے تک یہ اہم کیس چیئرمین کو بھیج رہے ہیں جس پر تاحال عملدرآمد روک دیا گیا ہے ۔

این ایچ اے نے بتایا کہ 2010-11ء میں 5531ملین ،2011-12 میں7 ہزار 7ملین ،2012-13ء میں 11ہزار 318ملین ،2013-14ء میں 13ہزار 909ملین شاہراہوں کی تعمیر پر خرچ کئے گئے ہیں ۔ کمیٹی کے ارکان نے اتنی بھاری رقم مرمت پر خرچ کرنے پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ یہ بھاری رقم خرچ کرنے کا کیا طریقہ کار ہے کیا اس میں قانون پر عملدرآمد کیا گیا ہے کیا این ایچ اے نے ایسا کوئی پروسیجر وضع کیا ہے جس کے تحت مبینہ کرپشن روکی جاسکے ۔

جس پر این ایچ اے چیئرمین نے بتایا کہ حکومت سڑکوں کی مرمت کیلئے کوئی فنڈز فراہم نہیں کررہی بلکہ این ایچ اے ذاتی طور پر یہ فنڈز موبلائز کرتی ہے جس میں ٹول پلازوں کی آمدنی اور ٹینڈر کی رقم شامل ہوتی ہے ۔ چیئرمین نے کہا کہ این ایچ اے کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ کام میں نے شروع کروایا ہے کہ رقم سے پہلے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان