کسی کی منت سماجت کی ہے نہ کرینگے جو دوست ملک دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون کریگا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

کسی کی منت سماجت کی ہے نہ کرینگے جو دوست ملک دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون کریگا اس کے مشکور ہونگے جو نہیں کریگا اسے گلہ نہیں کرینگے ، اسحاق ڈار،معیشت کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرلئے ہیں ، کوشش ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ اور بے گھر افراد کی بحالی کیلئے فنڈز کی فراہمی کے بعد بھی ترقیاتی بجٹ اور سماجی شعبے کیلئے مختص فنڈز میں کوئی کمی نہ کریں ،تحریک انصاف سے جوڈیشل کمیشن کے بارے میں صرف تین نکات پر اتفاق رائے باقی ہے ، سوچ مثبت ہو تو آدھے گھنٹے میں معاملہ حل ہوسکتا ہے ، قوم کو کنفیوز کرنے سے گریز کیاجائے، امریکی وزیر خارجہ جان کیری پاکستان آرہے ہیں ان سے تمام امور پر بات چیت ہوگی،پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔13جنوری۔2015ء )وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کسی کی منت سماجت کی ہے نہ کرینگے جو دوست ملک دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون کریگا اس کے مشکور ہونگے جو نہیں کریگا اسے گلہ نہیں کرینگے ، معیشت کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرلئے ہیں ، کوشش ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ اور بے گھر افراد کی بحالی کیلئے فنڈز کی فراہمی کے بعد بھی ترقیاتی بجٹ اور سماجی شعبے کیلئے مختص فنڈز میں کوئی کمی نہ کریں ،تحریک انصاف سے جوڈیشل کمیشن کے بارے میں صرف تین نکات پر اتفاق رائے باقی ہے ، سوچ مثبت ہو تو آدھے گھنٹے میں معاملہ حل ہوسکتا ہے ، قوم کو کنفیوز کرنے سے گریز کیاجائے ۔

پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے جہاں مثبت اثرات پڑتے ہیں وہاں منفی اثرات بھی ہوتے ہیں اس سے ریونیو کم ہوگا تاہم کوشش ہے کہ اس کے باوجود ترقیاتی بجٹ متاثر نہ ہو اسی مقصد کیلئے جی ایس ٹی کو 17سے بڑھا کر 22فیصد کیا گیا ہے جس سے 17.5ارب کی ریکوری متوقع ہے جبکہ مجموعی طور پر محصولات میں 68ارب روپے کا نقصان متوقع ہے 26سے 35روپے تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو دیا گیا ہے ۔

ہم نے گزشتہ سال بھی ترقیاتی بجٹ میں کمی نہیں کی تھی اور اس سال بھی یہی کوشش ہے کہ ایسا نہ ہو ۔ دوسرا بڑا شعبہ سماجی تحفظ کا ہے جس کیلئے ہم نے 118ارب روپے رکھے اور دو سال میں اس میں 95ارب روپے کا اضافہ کیا اس سے غریب ترین لوگ استفادہ کرتے ہیں اس لئے کوشش ہے کہ اس میں بھی کمی نہ ہو رواں سال اس سکیم سے 31ملین لوگ مستفید ہونگے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال 2014-15ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران ریونیو وصولی 1162.4ارب روپے رہی ہے جو گزشتہ سال اس عرصہ میں 1031.4ارب روپے تھی اس طرح اس میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود 13فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ساری دنیا میں ٹیرف کمیشن بہت فعال ہوتے ہیں اور وہ ڈمپنگ کو روکتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں اس لئے ہم نے کچھ ڈیوٹیز لگائی ہیں تاکہ ڈمپنگ کو روکاجاسکے اور یہ ہماری صنعتوں کا مطالبہ تھا ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مالی خسارہ 2.4فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ہم نے 8.8فیصد سے کم شروع کیا تھا اور اس سال 8.2پر لائے تھے اور پچھلے سال 5.5پر سال ختم کیا ۔ انہو ں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد ہورہا ہے جبکہ بے گھر افراد کو بھی گھروں کو واپس بھیجنا ہے جس کیلئے اخراجات کرنا ہونگے وہ ہمارے بہن بھائی ہیں جنہوں نے ملک کیلئے گھر بار چھوڑا اور قربانی دی ہم چاہتے ہیں کہ ان کی باوقار واپسی ہو ۔

اس کے علاوہ سول آرمڈ فورسز اور ریپڈ ریسپانس فورس بھی قائم ہورہی ہیں ان کی ضروریات کو بھی پورا کرینگے اس سے مالیاتی خسارے پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سال چھ ماہ کے دوران ترسیلات زر 8.978ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال اس عرصہ میں 7.89ارب ڈالر تھیں اس طرح ان میں 15.25فیصد کا اضافہ ہوا ہے ہم تارکین وطن کے شکر گزار ہیں کہ وہ بینکنگ چینلز سے رقوم بھجوارہے ہیں اس میں ہم بینکوں کو حصہ بھی دے رہے ہیں برآمدات کے بارے میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چھ ماہ کے دوران برآمدات 12.073ارب رہیں جو گزشتہ سال اس عرصے میں 12.617ارب ڈالر تھیں اس طرح ان میں 4.31فیصد کمی آئی ہے تاہم اس کے باوجود برآمدات میں جی ایس پی پلس درجہ ملنے سے بہتری ہوئی ہے ۔

درآمدات جو پچھلے چھ ماہ میں 21.671ارب ڈالر تھیں اس سال چھ ماہ میں 24.203ارب ڈالر رہیں اس طرح ان میں 11.68فیصد اضافہ ہوا تاہم تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات آئندہ چھ ماہ میں ظاہر ہونگے ۔ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران غیر ملکی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری 422.8ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال اس عرصہ میں 344.8ملین ڈالر تھی اس طرح اس میں 19.2فیصد اضافہ ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر 6فیصد سے کچھ زائد ہے مہنگائی کی یہ شر ح نومبر میں 4فیصد پر آگئی تھی جو گیارہ سال میں کم ترین تھی پچھلے سال دسمبر میں 9.2فیصد جبکہ اس سال 4.3فیصد رہی ۔

گزشتہ مالی سال کے دوران جولائی سے دسمبر تک مہنگائی کی شرح 8.5فیصد تھی جو اس سال 6.1فیصد رہی ۔ کمپنیز کی رجسٹریشن میں بھی 12.3فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس سال 6ماہ کے دوران 1723کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں ۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کمی ہوئی ہے جس میں ترقی کی شرح گزشتہ سال جولائی سے اکتوبر کے دوران 6.2فیصد تھی جو اس سال صرف 2فیصد رہی اس کی وجوہات میں سٹیل ملز کی بندش اور کرشنگ سیزن دیر سے شروع ہونا بھی شامل ہے ۔

زرعی قرضہ جو گزشتہ سال 6ماہ کے دوران 91ارب تھا اس سال 128ارب تک پہنچ گیا ہے اس طرح اس میں 40فیصد بہتری ہوئی پچھلے سال دسمبر تک ترقیاتی اخراجات 100ارب روپے تھے اس سال 145ارب روپے ہوئے ہیں اور اگلے چھ ماہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13-01-2015 :تاریخ اشاعت