عمران خان کا سپیکر سردار ایاز صادق سے استعفے کا مطالبہ،حلقہ این اے 122 میں کمیشن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

عمران خان کا سپیکر سردار ایاز صادق سے استعفے کا مطالبہ،حلقہ این اے 122 میں کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 34 ہزار 376 ووٹ بوگس نکلے ،18 جنوری کو دھرنا کنونشن میں لائحہ عمل دوں گا، حکومت نے بااختیار جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو سڑکوں پر نکلیں گے حکومت چلنے نہیں دیں گے،چیئرمین تحریک انصاف،ریٹرننگ آفیسر کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے تو بتا دے گا کہ اس کے پیچھے کون ہے اور کس نے دھاندلی کرائی؟ پریس کانفرنس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔13جنوری۔2015ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سپیکر سردار ایاز صادق سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ این اے 122 میں کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 34 ہزار 376 ووٹ بوگس نکلے ،18 جنوری کو دھرنا کنونشن میں لائحہ عمل دوں گا، حکومت نے بااختیار جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو سڑکوں پر نکلیں گے حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔ دھاندلی کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

انتخابات کا فائدہ تب ہی ہوگا جب شفاف الیکشن ہوں گے۔پیر کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 274 پولنگ اسٹیشنوں سے 128 پولنگ اسٹیشنوں کے فارم 14 اور 15 نہیں تھے۔ 34 ہزار 376 ووٹ نکلے ہیں اکیس پولنگ اسٹیشنوں کے سیریل نمبر غلط لکھے ہوئے تھے۔ لاکھوں بیلٹ پیپر چھوڑے جس کے سیریل نمبر نہیں مل رہے۔ 218 پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 14 اور 15 میں فرق آرہا ہے۔ ایک ہی پریزائیڈنگ آفیسر بھر رہا ہے۔

28 پولنگ اسٹیشن کے اندر سے کھلے بیگ ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں فراڈ ثابت ہوگیا ہے۔ دھاندلی سے جیتنے والے سپیکر ایاز صادق ڈیڑھ سال سے اسمبلی چلا رہے ہیں ۔ ایاز صادق سٹے آرڈرز کے پیچھے چھپتے رہے اب کمیشن کی رپورٹ سامنے آگئی ہے جس کے اندر فراڈ بھی منظر عام پر آگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے سے ڈر رہی ہے۔ اگر دھاندلی نہیں کی گئی تو حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے سے کیوں ڈرتی ہے ۔

پریزائیڈنگ افسران اور ریٹرننگ افسر کو پتہ نہیں تھا کہ عوام کا مینڈیٹ چوری ہورہا ہے اس فراڈ کے پیچھے نگران حکومت تھی۔ ریٹرننگ آفیسر کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے تو بتا دے گا کہ اس کے پیچھے کون ہے اور کس نے دھاندلی کرائی ہے ۔ دھاندلی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔ 2013 ء کے انتخابات میں ساری جماعتیں کہتی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے ۔ ریٹرننگ آفیسر کے سامنے دھاندلی کے ثبوت رکھے جائیں گے تو وہ ضرور بتائے گا کہ کس نے دھاندلی کرائی ہے۔

این اے 124 کے تھیلے این اے 122 میں آگئے ہیں۔ انہوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13-01-2015 :تاریخ اشاعت