عمران خان کا سپیکر سردار ایاز صادق سے استعفے کا مطالبہ،حلقہ این اے 122 میں کمیشن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

عمران خان کا سپیکر سردار ایاز صادق سے استعفے کا مطالبہ،حلقہ این اے 122 میں کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 34 ہزار 376 ووٹ بوگس نکلے ،18 جنوری کو دھرنا کنونشن میں لائحہ عمل دوں گا، حکومت نے بااختیار جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو سڑکوں پر نکلیں گے حکومت چلنے نہیں دیں گے،چیئرمین تحریک انصاف،ریٹرننگ آفیسر کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے تو بتا دے گا کہ اس کے پیچھے کون ہے اور کس نے دھاندلی کرائی؟ پریس کانفرنس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔13جنوری۔2015ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سپیکر سردار ایاز صادق سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ این اے 122 میں کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 34 ہزار 376 ووٹ بوگس نکلے ،18 جنوری کو دھرنا کنونشن میں لائحہ عمل دوں گا، حکومت نے بااختیار جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو سڑکوں پر نکلیں گے حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔ دھاندلی کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

انتخابات کا فائدہ تب ہی ہوگا جب شفاف الیکشن ہوں گے۔پیر کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 274 پولنگ اسٹیشنوں سے 128 پولنگ اسٹیشنوں کے فارم 14 اور 15 نہیں تھے۔ 34 ہزار 376 ووٹ نکلے ہیں اکیس پولنگ اسٹیشنوں کے سیریل نمبر غلط لکھے ہوئے تھے۔ لاکھوں بیلٹ پیپر چھوڑے جس کے سیریل نمبر نہیں مل رہے۔ 218 پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 14 اور 15 میں فرق آرہا ہے۔ ایک ہی پریزائیڈنگ آفیسر بھر رہا ہے۔

28 پولنگ اسٹیشن کے اندر سے کھلے بیگ ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں فراڈ ثابت ہوگیا ہے۔ دھاندلی سے جیتنے والے سپیکر ایاز صادق ڈیڑھ سال سے اسمبلی چلا رہے ہیں ۔ ایاز صادق سٹے آرڈرز کے پیچھے چھپتے رہے اب کمیشن کی رپورٹ سامنے آگئی ہے جس کے اندر فراڈ بھی منظر عام پر آگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے سے ڈر رہی ہے۔ اگر دھاندلی نہیں کی گئی تو حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے سے کیوں ڈرتی ہے ۔

پریزائیڈنگ افسران اور ریٹرننگ افسر کو پتہ نہیں تھا کہ عوام کا مینڈیٹ چوری ہورہا ہے اس فراڈ کے پیچھے نگران حکومت تھی۔ ریٹرننگ آفیسر کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے تو بتا دے گا کہ اس کے پیچھے کون ہے اور کس نے دھاندلی کرائی ہے ۔ دھاندلی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔ 2013 ء کے انتخابات میں ساری جماعتیں کہتی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے ۔ ریٹرننگ آفیسر کے سامنے دھاندلی کے ثبوت رکھے جائیں گے تو وہ ضرور بتائے گا کہ کس نے دھاندلی کرائی ہے۔

این اے 124 کے تھیلے این اے 122 میں آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس حلقے کو کھولا جائے فراڈ سامنے آئے گا۔ جمہوریت کے مجرموں کو سزا دیئے بغیر انتخابی اصلاحات کا کوئی فائدہ نہیں دھاندلی کرنے والوں نے قانون کو توڑا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اٹھارہ جنوری کو دھرنا کنونشن کررہے ہیں جس میں لائحہ عمل دیں گے۔ سانحہ پشاور کی وجہ سے دھرنا ختم کیا۔ دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ نہیں بنے۔

اگر حکومت بااختیار جوڈیشل کمیشن نہیں بناتی اور تحقیقات نہیں کراتی تو پھر الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ حقیقی جمہوریت ہوگی تو عوام حکمرانوں سے ان کے اثاثوں بارے پوچھ سکیں گے۔ حقیقی جمہوریت میں ہی عوام احتساب کرتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو سڑکوآں پر نکلیں گے حکومت کیلئے کام کرنا ناممکن بنا دیں گے۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں ہورہی یہ آڈٹ ہورہا ہے کہ تھیلیوں کے اندر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پرویز رشید کمیشن کی رپورٹ پہلے پڑھ لیں اور جھوٹ بولنا چھوڑ دیں کہ ہم تین ہزار سے جیت رہے ہیں پرویز رشید نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کردی۔ کمیشن کی رپورٹ آج آئی ہے۔ پرویز رشید کو پہلے کیسے پتہ چل گیا انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف انسداد دہشت گردی سفارشات پیش کرے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دھرنے سے عوام میں اتنا شعور آیا ہے جتنا دس سال کی سیاست میں نہیں آیا۔ عوام بیدار ہوگئی ہے چار حلقے کھولنے کا ہمارا مطالبہ تھا تین حلقے کھلے ہیں تو فراڈ سامنے آگیا ۔

چوتھا حلقہ کھلا تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ثبوت سامنے آرہے ہیں تو حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے سے اور ڈررہی ہے۔ ملک کو بچانے کیلئے فوجی عدالتوں کی کڑوی گولی کھائی۔ شفاف الیکشن تک عوام کے پاس اقتدار نہیں آسکتا۔ دھاندلی کرکے الیکشن جیتنے والے اسمبلی میں آکر کیسے ایماندار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایاز صادق کو عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے انہیں فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔

13-01-2015 :تاریخ اشاعت