سب کے حوصلے بلند ، دہشت گردی کیخلاف پوری قوم متحد ہے‘راحیل شریف،دہشت گردی کیخلاف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
تاریخ اشاعت: 2015-01-13
پچھلی خبریں -

پشاور

تلاش کیجئے

سب کے حوصلے بلند ، دہشت گردی کیخلاف پوری قوم متحد ہے‘راحیل شریف،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہر صورت کامیابی حاصل کرینگے :آرمی چیف کا آرمی پبلک سکول کے دورے پر طلبہ و اساتذہ سے خطاب،آرمی چیف نے سکو ل میں آ نے والے طلبہ کا استقبا ل بھی کیا ، طلبہ کے حوصلے کی تعریف

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔13جنوری۔2015ء)دہشت گردی کانشانہ بننے والے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں تدریسی عمل شروع ہو گیا ہے ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ یہ قوم ناقابل شکست ہے ، سب کے حوصلے بلند ہیں۔ آرمی پبلک سکول پشاور میں تدریسی عمل شروع ہو گیا ہے ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے سکول کا دورہ کیا۔ انہوں نے بچوں اور ان کے والدین سے ملاقات کی اور طلبہ کو سکول میں خوش آمدید کہا۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشتگردی کیخلاف متحد ہے ، سب کے حوصلے بلند ہیں ، اس قوم کو کوئی بھی چیز شکست نہیں دے سکتی۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہر صورت کامیابی حاصل کرینگے ادھرپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی ار کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے آرمی پبلک سکول پشاور کا دورہ کیا جہاں انہو ں نے بچوں کا استقبال کیا ۔بیان کے مطابق جنرل راحیل نے کہا ہے کہ ’تمام بچے ہائی سپرٹس میں ہیں اور اس قوم کو شکست نہیں دی جاسکتی‘۔

تاہم شہر میں عوام میں سکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں اور بظاہر والدین سکول کھلنے سے چند گھنٹے پہلے تک اس مخمصے میں تھے کہ آیا بچوں کو سکول بھیجا جائے کہ نہیں۔ان میں سے بعض والدین کے مطابق وہ پیر کو پہلے اپنے بچوں کے سکول میں جائیں گے اور اگر وہ وہاں سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن ہوئے تو پھر اگلے روز یعنی منگل کو اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے۔دوسری جانب 16 دسمبر کو طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والے آرمی پبلک سکول کو دوبارہ کھولنے کے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔

سکول کے اطراف میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور رات کے وقت سکول کی جانب جانے والے راستے وارسک روڑ کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس وقت پشاور بورڈ کے ساتھ منسلک سکولوں کی تعداد ساڑھے بائیس سو کے قریب ہے اور ان میں سے جنھوں نے نئے سکیورٹی انتظامات مکمل کیے ہیں، جس میں اضافی سکیورٹی، خاردار تاریں، کیمرے وغیرہ شامل ہیں، ان کی تعداد 1400 ہے صرف وہ سکول کھلے ہیں۔اس سے قبل خیبر پختونخوا میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شوکت یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پشاور بورڈ کے ساتھ منسلک سکولوں کی تعداد ساڑھے بائیس سو کے قریب ہے اور ان میں سے جنھوں نے نئے سکیورٹی انتظامات مکمل کیے ہیں، جس میں اضافی سکیورٹی، خاردار تاریں، کیمرے وغیرہ شامل ہیں، ان کی تعداد 1400 ہے صرف وہ سکول کھلے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سکولوں کی بسوں میں بھی سکیورٹی گارڈ تعینات ہوں گے۔شوکت یوسفزئی کے مطابق سکیورٹی کے یہ تمام اقدامات دوبارہ سکولوں میں چھٹی کے وقت کیے جائیں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ شدت پسندی سے متاثرہ پشاور شہر میں پیر کو پولیس کی تمام نفری کو اگر سکولوں کی حفاظت پر لگا دیا جائے گا تو باقی عوامی مقامات کا کیا بنے گا۔؟شوکت یوسفزئی نے کہا کہ یہ نفسیاتی جنگ ہے اور اس میں عوام کو بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مکمل ساتھ دینا ہو گا۔

13-01-2015 :تاریخ اشاعت