سانحہ فیصل آباد ناولٹی پل میں نامزد ملزمان کی تعداد 11سے بڑھ کر 70کے قریب پہنچ گئی،تحریک ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
- مزید خبریں

فیصل آباد

تلاش کیجئے

سانحہ فیصل آباد ناولٹی پل میں نامزد ملزمان کی تعداد 11سے بڑھ کر 70کے قریب پہنچ گئی،تحریک انصاف نے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوکر 57 نئے ملزمان کو نامزد کرنے کی درخواست کردی

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔11جنوری۔2015ء) سانحہ فیصل آباد ناولٹی پل میں نامزد ملزمان کی تعداد 11سے بڑھ کر 70کے قریب پہنچ گئی‘ تحریک انصاف نے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوکر 57 نئے ملزمان جن کی شناخت تصاویر اور سی ڈیز میں کی گئی ہے‘ کو نامزد کرنے کی درخواست کردی‘ دریں اثناء انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج راجہ پرویز اختر نے سانحہ ناولٹی پل کے گرفتار 7 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ جیل بھیج دیا۔

”خبر رساں ادارے“ کے مطابق سانحہ ناولٹی پل کیس میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ہدایت پر تحریک انصاف فیصل آباد اور مقتول حق نواز کے قتل کے مقدمہ کے مدعی عطاء محمد خان نے گذشتہ روز جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ بلال عمر کے روبر پیش ہوکر اپنے بیانات ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور دیگر بااثر شخصیات سے انہیں جان کا خطرہ ہے جبکہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم میں شامل ڈی ایس پی اور دو انسپکٹر گواہان کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور مقدمہ کی واپسی پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

خبر رساں ادارے کو ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف کے 8 راہنماؤں نے مدعی مقدمہ عطاء محمد کے ہمراہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ صاحبزادہ بلال عمر کو بیان ریکارڈ کروانے کیساتھ ساتھ 84 تصاویر اور 3 سی ڈیز پیش کیں اور ساتھ ہی انہوں نے ایک نئی درخواست بھی دی جس میں کہا گیا ہے کہ ان تصاویر اور سی ڈیز کے مطابق 57 نئے ملزمان کی شناخت ہوگئی ہے لہٰذا انہیں بھی مقدمہ میں شامل کیا جائے۔ مدعی مقدمہ عطاء محمد نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض بااثر سیاسی شخصیات کیساتھ ساتھ انتظامی افسران انہیں مقدمہ واپس لینے کیلئے مجبور کررہے ہیں جبکہ ان شخصیات کی وجہ سے ان کی زندگی کو بھی خطرہ ہے اور جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ممبران جن میں ڈی ایس پی اور دو انسپکٹر عبدالحمید اور یاسر جٹ گواہان کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

درج ہونے والے مقدمہ میں سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ‘ ان کے داماد رانا شہریار‘ ڈی سی او نورالامین مینگل‘ وزیر مملکت عابد شیر علی‘ ایم پی اے میاں طاہر جمیل‘ ڈی ایس پی ملک خالد‘ ایس ایچ او سمن آباد خالد رندھاوا سمیت 300 نامعلوم ملزمان میں سے مدعی پارٹی نے 70 ملزمان کو شناخت کرلیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیر مملکت عابد شیر علی اور ممبر صوبائی اسمبلی میاں طاہر جمیل اپنی بے گناہی کا ثبوت جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ صاحبزادہ بلال عمر کے روبرو پیش ہوکر قلمبند کرواچکے ہیں۔

11-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان