سکولوں میں ٹیچراورہسپتالوں میں ڈاکٹرزنہیں سول سیکرٹریٹ میں لوگ نہیں آ تے ،وزیراعلیٰ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
پچھلی خبریں -

کوئٹہ

تلاش کیجئے

سکولوں میں ٹیچراورہسپتالوں میں ڈاکٹرزنہیں سول سیکرٹریٹ میں لوگ نہیں آ تے ،وزیراعلیٰ بلوچستان،صوبہ میں13سے 18لاکھ کے درمیان بچے اوربچیاں سکول نہیں جاتے اس سال ہم نے سکول بھرومہم مارچ میں چلانی ہے ہربچے اوربچی کوسکول میں داخل کرناہے، قومی خواتین کانفرنس سے خطاب

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔11جنوری۔2015ء)وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ سکولوں میں ٹیچراورہسپتالوں میں ڈاکٹرزنہیں سول سیکرٹریٹ میں لوگ نہیںآ تے بلوچستان میں13سے 18لاکھ کے درمیان بچے اوربچیاں سکول نہیں جاتے اس سال ہم نے سکول بھرومہم مارچ میں چلانی ہے ہربچے اوربچی کوسکول میں داخل کرناہے ان خیالات کااظہارانہوں نے نیشنل پارٹی کے خواتین ونگ کے زیراہتمام قومی خواتین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ پارٹی کارکن پوسٹنگ ٹرانسفرکے بجائے سماجی کاموں پرتوجہ دے بلدیاتی ادارے کے باقی مرحلہ الیکشن مکمل ہونے کے بعد وہ اپنانظام خود چلائیں گے بلوچستان میں پیدائش کے دوران زچہ وبچہ کی شرح اموات انتہائی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

بلوچستان میں ایک ہزار سے زائد ویکسینٹر گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں جبکہ ہمارے بچے خسرے کی وباء کے باعث موت کے منہ میں جارہے ہیں اگر مذکورہ ویکسینیٹر اپنے فرائض درست انجام دیں تو بلوچستان میں 98% بچوں کو ٹیکہ جات لگائے جاسکتے ہیں ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ اس سال ہم سکولوں میں ایک نیانظام متعارف کروارہے ہیں جسے کوئٹہ سے مانیٹرکیاجائیگاجوٹیچرغیرحاضرہوگااس کیخلاف میں خودکاروائی عمل میں لاؤنگاوزیراعلیٰ نے کہاکہ خواتین کاکردارمعاشرے میں بہت اہم ہے اورہم ترقی اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک ہم نے مرد اورعورت کی تفریق ختم نہیں کرتے انہوں نے کہاکہ آج ہماری پارٹی خواتین کارکنوں نے اس کنونشن کومنعقد کرنے کیلئے جوکاوشیں کی ہے وہ قابل تعریف ہے نیشنل پارٹی کے سینئررہنماء میرطاہربزنجونے کہاکہ بلوچستان کامعاشرہ لیبرل معاشرہ ہے عورتوں کی جبری شادی ،عورت کافروخت کرنااورعورتوں پرتیزاب پھینکناہمارے معاشرے کاحصہ نہیں اورنہ ہی ماضی میں رہاہے یہ کلچرہم پرمسلط کیاجارہاہے اگرہم نے اپنی قوم کوعزت اورمقام دلاناہے اس کیلئے ہمارے ہاتھ میں قلم اورکتاب اورہمیں علم وآگاہی سے رشتہ جوڑناہوگاہمیں مرداورخواتین کاامتیازختم کرناہوگاقومی خواتین کانفرنس میں صوبے بھرکے اضلاع سے خواتین کارکنوں نے شرکت کی اوراپنے اپنے اضلاع کے مسائل اورسیاسی پیش رفت کے بارے میں اپنی رپورٹس اورسفارشات پیش کیں نیشنل پارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹرشمع اسحاق نے کہاکہ آج ہمارے لئے باعث فخرہے کہ ہماری خواتین کارکن اتنے دوردراز علاقوں سے سفرکرکے یہاںآ ئے ہیں ان کاحوصلہ قابل دیدہے ممبر صوبائی اسبملی یاسمین لہڑی نے اپنے خطاب میں کہاکہ جب تک خواتین سیاسی پلیٹ فارم پراپنامثبت کردارادانہیں کریں گی اس وقت تک ہماری ترقی میں رکاوٹیں حائل رہیں گی ضلعی سیکرٹری شازیہ لانگونے اپنی رپورٹ میں خواتین اورپارٹی کے لئے منعقدکئے گئے پروگراموں سے متعلق آگاہ کیااورانہوں نے کہاکہ سیاسی میدان میں خواتین کاکردارانتہائی اہمیت کاحامل ہے اگرخواتین سیاسی میدان میں اپنابھرپورکرداراداکریں توہمارے مسئلے مسائل حل ہونے میں دیرنہیں لگے گی۔

11-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان