پیرس فائرنگ میں ہلاک پولیس اہلکار مسلمان تھا، نئی بحث شروع
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
تاریخ اشاعت: 2015-01-11
-

تلاش کیجئے

پیرس فائرنگ میں ہلاک پولیس اہلکار مسلمان تھا، نئی بحث شروع

پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔11جنوری۔2015ء) پیرس میں حالیہ ایک جریدے کے دفتر پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں، دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ اور، ان میں احمد نامی پولیس اہلکار کے مسلمان ہونے کی خبر نے مغربی ذرائع ابلاغ میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔فرانسیسی پولیس کے ترجمان نے ’نیو یارک ٹائمز‘ کو بتایا کہ احمد کے والدین شمالی افریقہ سے ہجرت کرکے فرانس آئے تھے۔

لیکن، وہ یہ نہیں جانتے کہ آیا احمد اب بھی اسلام کے پیروکار تھے۔ لیکن، اے بی سی نیوز کے مطابق، فرانسیسی اخبارات کی اس خبر نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ادھر، سوشل میڈیا پر کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ احمد نے اس جریدے کی حفاظت کرتے ہوئے، اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا، جس نے ان کے مذہب کی توہین کی؛ تو کسی نے کہا کہ وہ دوسرے کی رائے سے متفق نہ ہوں تو بھی وہ دوسروں کی آزادی اظہار کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان