سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ و اقتصادی کی حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات میں پانچ فیصد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ و اقتصادی کی حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات میں پانچ فیصد ٹیکس اضافہ واپس لینے کی سفارش ، اگلے اجلاس میں وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ اوگرا ٓرڈنینس میں خامیاں دور کرنے کیلئے مفصل بریفنگ دیں ، کمیٹی ، اوگرا اتھارٹی میں ممبران کی تعداد مکمل نہ ہونے پر شدید ناراضگی کا اظہا ر

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔10 جنوری۔2015ء )قائمہ کمیٹی سینیٹ خزانہ و اقتصادی امور کے اجلاس میں حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات میں پانچ فیصد ٹیکس اضافہ واپس لینے کی سفارش کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ اوگرا ٓرڈنینس میں خامیاں دور کرنے کیلئے مفصل بریفنگ دیں ۔ چیئرپرسن سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات میں 50 فیصد کمی ہوئی لیکن پاکستان میں صرف 12 فیصد کی کمی کی گئی ٹیکس سے پارلیمنٹ اور عوام دونوں سخت پریشان ہیں جس پر پارلیمنٹ میں بھی سیر حاصل بحث ہو چکی اور عوامی نمائندے مجوزہ ٹیکس اضافے کے سخت خلاف ہیں کمیٹی خود اوگرا کے ماہانہ قیمتوں کے تعین کرنے والے اجلاسوں میں شریک ہو کر مانیٹرنگ کیا کرے گئی جس پر چیئرمین اوگرا سعید احمد نے کہا کہ اوگرا اجلاس میں کمیٹی اراکین کی شرکت پر کوئی اعتراض نہیں کمیٹی کے اجلاس میں اوگرا اتھارٹی میں ممبران کی تعداد مکمل نہ ہونے پر شدید ناراضگی کا اظہا رکیا گیا کمیٹی اجلاس میں اراکین نے کثرت رائے سے پیٹرولیم مصنوعات پر پانچ فیصد ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی جس پر سینیٹر رفیق راجوانہ نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ ایوان بالاء میں بحث کے بعد اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کی وضاحت کے بعد چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری کے پاس ہے جنہوں نے رولنگ محفوظ کی ہوئی ہے کمیٹی کو چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کا انتظار کرنا چاہیے ۔

سینیٹر سردار فتح حسنی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں کمی قوم پر احسان نہیں ٹرانسپورٹ اور پی آئی اے کے کرایوں میں کمی نہیں کی گئی اور کہا کہ بد قسمتی سے پی ایس او کا ایم ڈی دیہاڑی دار مزدور سے بھی کم درجے کا ہے اور قائمقام کے طور پر کام کر رہاہے عدالت اعظمیٰ کے تین ماہ کے دوران مستقل ایم ڈی بھرتی کرنے کے فیصلے پر حکومت عمل نہیں کر رہی وزیر اعظم پاکستان خود پی ایس ا و کے معاملات پر توجہ دیں اور کہا کہ اوگرا کے کچھ غیر قانونی کاموں اور فیصلوں کی وجہ سے ہم بھکاری بن گئے ہیں جس پر چیئرمین اوگرا سعید احمد نے جواباًکہا کہ ہم نے غیر قانونی فیصلے نہیں کیے سینیٹر کلثوم پروین نے اوگرا کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ اوگرا اتھارٹی کے نامکمل ہونے کے باوجود غیر قانونی فیصلے کیے گئے چیئرمین اوگرا نے وضاحت کی کہ 2013 میں واقعی کچھ فیصلے کیے گئے تھے جو لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیے دے اور کہا کہ ہر ماہ کی یکم سے 29 تاریخ تک اجلاس کا انقاد کرتے ہیں کارگو کی درآمد کی قیمت کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے حکومت نے واضع فارمولا دیا ہوا ہے اُس کو دیکھ کر ہی نرخوں کا تعین کیا جاتا ہے پی ایس او کا مارکیٹ میں اس وقت 70 سے 75 فیصد حصہ داری ہے پیٹرولیم لیوی کا تعین حکومت خود کرتی ہے سینیٹر حاجی عدیل نے سوال اُٹھایا کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود فیول سرچارج کم کیوں نہیں کیا گیا اور کہا کہ 70 ارب کے نقصانات پورے کرنے کیلئے حکومت انتظامی اور سرکاری اخراجات میں کمی کرے وزیراعظم اور وزراء بیرون ملک دوروں پر جہاز بھر کر لے جاتے ہیں اور امریکی صدر اوباما کیلئے مختص ہوٹل سے بھی مہنگی رہائش میں قیام کرتے ہیں کیا قوم دعا کرے کہا پیٹرولیم کی قیمتوں میں پھر اضافہ ہوجائے سینیٹر عثمان سیف اللہ نے اراکین کمیٹی اور چیئرپرسن سے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر پارلیمنٹ سے بالاء پانچ فیصد اضافہ کے خلا ف سینیٹر ز کا انفرادی حیثیت میں عدالت سے رجوع کرنا چاہیے جس کی اراکین کمیٹی نے کثرت رائے سے حمایت کی اور سینیٹر رفیق رجوانہ نے اختلاف کیا سینیٹر صغریٰ امام نے جی ایس ٹی اضافہ کو آئین سے متصادم قرار دیا اور کہا کہ اس کو ختم کیا جانا چاہیے سینیٹر صغرٰ ی امام نے مزید کہا کہ زراعی آمدن حاصل کرنے والے ٹیکس دہندگان کا صوبائی زراعی آمد ن کے این ٹی این ٹیکس نمبر جاری کیے جائیں زراعی آمدن پر ٹیکس وفاقی قرار دینے کیلئے آئینی ترمیم بھی کی جائے چیئرمین ایف بھی آر طارق باجوہ نے انکشاف کیا کہ پاکستانیوں کے سویٹرزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے 2 سو ارب ڈالر کی معلومات سوئس بینک فراہم نہیں کر رہے اور مزید کہا کہ دوبئی میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات کیلئے دوبئی حکومت کو خط لکھ دیا گیا ہے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ زراعی ٹیکس کا نفاذ صوبوں کا اختیار ہے پرتیش زندگی گزارنے والے انکم ٹیکس گوشوارے میں زراعت کی آمدن ظاہر کرتے ہیں جس پر ایف بی آر کچھ نہیں کر سکتا انہوں نے آگاہ کیا کہ 2013 میں انکم ٹیکس

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان