پاکستان علماء کونسل نے 21 ویں آئینی ترمیم کی مکمل حمایت و تائید کردی ،دہشت گردی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
تاریخ اشاعت: 2015-01-10
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پاکستان علماء کونسل نے 21 ویں آئینی ترمیم کی مکمل حمایت و تائید کردی ،دہشت گردی کے مخالف ہیں حکومت دہشت گردی کی وصاہت کرے‘ سیاستدان بھی مدارس اور مساجد کو سیاست کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں،پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام امن کانفرنس کا اعلامیہ،مولانا فضل الرحمن مساجد و مدارس کو خوفزدہ نہ کریں یہ ملک مسلمانوں کا ہے کوئی مذہبی طبقے کے خلاف جنگ نہیں کررہا‘ حکومت قتل و غارت میں ملوث مدارس کی نشاندہی کرے‘ بغیر ثبوت کسی مسجد یا مدارس پر حملے کی اجازت نہیں دیں گے‘ 21 ویں ترمیم کی کڑوی کوکھانا پڑے گا‘ آئندہ ہفتے قومی کانفرنس کا انعقاد تمام مکاتب فکر کے لئے داراالفتار بنائیں گے ، علامہ طاہر محمود اشرفی کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔10 جنوری۔2015ء) پاکستان علماء کونسل نے 21 ویں آئینی ترمیم کی مکمل حمایت و تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے مخالف ہیں حکومت دہشت گردی کی وصاہت کرے‘ سیاستدان بھی مدارس اور مساجد کو سیاست کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں امن کانفرنس کا اعلامیہ‘ جبکہ علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن مساجد و مدارس کو خوفزدہ نہ کریں یہ ملک مسلمانوں کا ہے کوئی مذہبی طبقے کے خلاف جنگ نہیں کررہا‘ حکومت قتل و غارت میں ملوث مدارس کی نشاندہی کرے‘ بغیر ثبوت کسی مسجد یا مدارس پر حملے کی اجازت نہیں دیں گے‘ 21 ویں ترمیم کڑوی گولی ہے جسے کھانا پڑے گا‘ آئندہ ہفتے قومی کانفرنس کا انعقاد تمام مکاتب فکر کے لئے داراالفتار بنائیں گے علمی تحقیقی ادارہ قائم کیا جائے گا اور اس کے خلاف پراپیگنڈہ بند کیا جائے مدارس امن کا درس دیتے ہیں اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں امن کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب اور علامیہ سناتے ہوئے کیا۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا ژکہ 21 ویں آئینی ترمیم کی پاکستان علماء کونسل بھرپور حمایت کرتی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حکومت اور پاک فوج کے ساتھ ہین لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ دہشت گرد کی تعریف واضح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالتوں کی تمام تر تحفظات کے باوجود اس لیے حمایت کرتے ہیں کہ جب پولیس ‘ عدلیہ سمیت دہشت گردی سے سارا نظام کانپ رہا ہے تو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جن مساجد اور مدارس کے حوالے سے شکایت ہے کہ وہ عسکریت پسندی یا دہشت گردی مین ملوث ہیں ان کا نام بتایا جائے اس کو ہم نہ رکھا جائے کیونکہ اس سے قومی اتفاق رائے کی فضا متاثر ہورہی ہے انہوں نے مذہبی سیاسی رہنماؤں کا نام لیے بغیر کہا کہ ان سیاستدانوں کو بھی اپنی سیاست کیلئے مسجد و مدارس کو استعمال نہیں کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلمان رہتے ہیں عدلیہ اور میڈیا آزاد ہیں ایسی صورتحال میں دعوت اسلام دینے والون کو پریشان نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہ اکہ حکومت بھی بتائے کہ کون سے ایسے مدارس و مساجد ہیں جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک خصوصاً فرانس اور جرمنی میں ہونے والے فسادات کی مذمت کرتے ہیں مسلم اور غیر مسلم قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے پر فوراً اجالس بلا کر اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جاسکے۔ انہوں نے اسلامی سربراہی کانفرنس بلانے کے بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ مین ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی بستی ہے اس سلسلے میں اسلامی ممالک کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے پاکستان سمیت یورپی ممالک میں مکالمے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند افراد کی جانب سے مدارس العربیہ کے خلاف پراپیگنڈہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10-01-2015 :تاریخ اشاعت