پھانسی کے قیدی اکرام الحق کی مقتولین کے ورثا سے صلح ، پھانسی ملتوی کردی گئی ،ملزم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
- مزید خبریں

لاہور

تلاش کیجئے

پھانسی کے قیدی اکرام الحق کی مقتولین کے ورثا سے صلح ، پھانسی ملتوی کردی گئی ،ملزم کو شور کوٹ میں ایک شخص کو قتل کرنے کے الزام میں پھانسی ہوئی تھی ، صلح نامہ مجسٹریٹ تک پہنچا دیا گیا،دہشت گردی کی واردات میں اجمل عرف اکرم لاہوری ملوث تھا اکرام الحق نہیں ، وکیل کا دعو یٰ

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 جنوری۔2015ء)کوٹ لکھپت جیل میں مجرم اکرام الحق عرف لاہوری کی پھانسی ملتوی کردی گئی۔اکرام الحق عرف لاہوری نے2001میں نیئرعباس کوقتل کیاتھااور اسے جمعرات کی صبح پھانسی دی جانی تھی تاہم فریقین کے درمیان معاملات طے پا جانے کے بعد پھانسی ملتوی کردی گئی ہے۔ اکرام الحق کے وکیل غلام مصطفیٰ کے مطابق اکرام الحق کے کیس کے مدعیوں سے معافی ہو چکی ہے۔ وکیل کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں اور مقتول کے ورثا نے مجرم اکرام الحق کو معاف کردیا۔

مقتول کے لو احقین نے ر ات گئے مجسٹریٹ آفس میں صلح نامہ جمع کرایاتھا۔اکرام الحق شورکوٹ میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد2001 میں نیئر عباس نامی شخص کے قتل کے الزام میں گرفتارہواتھا۔ادھرمجرم اکرام الحق عرف لاہوری کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ ان کا موکل دہشت گردی کے مقدمے میں ملوث نہیں تھا ، ایک شخص کو قتل کیا تھا اور فریقین میں صلح ہوچکی تھی۔ اکرام الحق عرف لاہوری کے وکیل غلام مصطفٰی ایڈووکیٹ نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکرام الحق عرف لاہوری کو شور کوٹ میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ میں ایک شخص کو قتل کرنے پر سزائے موت سنائی گئی تھی ، ملزم کی فائرنگ سے ایک شخص نیئر عباس جاں بحق ہوا تھا۔

وکیل کے مطابق دہشت گردی کی واردات میں اجمل عرف اکرم لاہوری ملوث تھا ، اْن کے موکل کا نام اکرام الحق ہے۔ دونوں پارٹیوں میں صلح ہوچکی تھی ملزم کی پھانسی رکوانے کے لئے کوٹ لکھپت جیل میں صلح نامہ مجسٹریٹ تک پہنچا دیا گیا ہے۔ مجسٹریٹ نے فریقین کو صبح تک کا وقت دیا تھا۔

09-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان