سابق چیئرمین سی ڈی اے فرخنداقبال نے اربوں روپے کے سکینڈل کی21فائلیں اور ریکارڈ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سابق چیئرمین سی ڈی اے فرخنداقبال نے اربوں روپے کے سکینڈل کی21فائلیں اور ریکارڈ غائب اور ضائع کردیا تھا،موجودہ چیئرمین کا پی اے سی میں انکشاف،درجنوں سکینڈل کی تحقیقات ایف آئی اے اور نیب حکام کر رہے ہیں اور بعض مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں،معروف افضل، سی ڈی اے میں کرپشن کی اندھیرنگری مچی ہوئی ہے،سی ڈی اے کا بال بال کرپشن میں پھنسا ہوا ہے،کوئی ایسا منصوبہ نہیں جس میں کرپشن نہ کی گئی ہو،پی اے سی، کمیٹیاں بنانے سے مک مکا کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں،نوید قمر، کرپٹ لوگوں کو لٹکائے بغیر حالات بہتر نہیں ہوسکتے،عاشق گوپانگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 جنوری۔2015ء)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی( پی اے سی) کو وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) کے چےئرمین معروف افضل نے حیران کن تفصیلات اور انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سابق چےئرمین سی ڈی اے فرخنداقبال نے اربوں روپے کے سکینڈل کی21فائلیں اور ریکارڈ غائب اور ضائع کردیا تھا۔سی ڈی اے میں کھربوں روپے کی کرپشن کا اقرار کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ درجنوں سکینڈل کی تحقیقات ایف آئی اے اور نیب حکام کر رہے ہیں اور بعض مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

پی اے سی نے آبزرویشن دی کہ سی ڈی اے میں کرپشن کی اندھیرنگری مچی ہوئی ہے،سی ڈی اے کا بال بال کرپشن میں پھنسا ہوا ہے،کوئی ایسا منصوبہ نہیں جس میں کرپشن نہ کی گئی ہے۔نوید قمر نے کہا کہ کمیٹیاں بنانے سے مک مکا کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔عاشق گوپانگ نے کہا کہ کرپٹ لوگوں کو لٹکائے بغیر حالات بہتر نہیں ہوسکتے،ہم نے بھی لوگوں کو چہرہ دکھانا ہے ۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز کنونےئر نوید قمر کی صدارت میں شروع ہوا،اجلاس میں عذرا فضل پیچوہو،ایم این اے جنید چوہدری، عاشق گوپانگ،رانا افضل سردار جعفر لغاری نے شرکت کی۔

پی اے سی کو بتایا گیا کہ سابق چےئرمین فرخند اقبال نے ایل ای ڈی لائٹس منصوبہ جو اربوں روپے کا تھا کی فائل غائب کی اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں فائلیں غائب کی گئیں جن میں پی ای سی رجسٹریشن سکینڈل،ایگرو،آرچرڈ اینڈ پولٹری فارم کی الاٹمنٹ کی فائل،اسٹیٹ مینجمنٹ میں 3سال کی رپورٹ بارے فائل ،لینڈ بحال منصوبہ ،پلاٹوں کی الاٹمنٹ ،لینڈ ایوارڈ ،متاثرین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی فائل،کری ویلج منصوبہ ،نیشنل پولیس فاؤنڈیشن ،سیکٹر ای الیون ،ہاؤسنگ سوسائٹی بارے فائل،راول لیگ سروے ،زون چھ میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ ،بوکرا اور سوپاریاں ویلج فائل،صنعا گولڈ مال کی فائل،شالیمار پارک میں ہوٹل کی الاٹمنٹ کی فائل وغیرہ شامل ہیں۔

پی اے سی کو آڈٹ حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ جی ٹن میں لیڈرکلب میں183 ملین مزید لاگت بڑھانے اور ڈیزائن کی تبدیلی پر اعتراضات اٹھائے گئے۔آڈٹ حکام نے کہا کہ عمارت کا ڈیزائن تبدیل کرنا ہوگا۔ڈیزائن کی وجہ سے عمارت کی لاگت میں کروڑوں روپے کا اضافہ کردیاگیا ہے،آڈٹ اعتراض میں کنسلٹنٹ کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔لیڈی کلب سی ڈی اے نے شروع کیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق چےئرمین سی ڈی اے نے تسلیم کیا کہ آڈٹ حکام نے صحیح اعتراض کیا ہے۔

تعمیرات کی جگہ ناقص ہے لیکن لاگت میں اضافہ کی اور بھی وجوہات ہیں،یہ معاملہ ہم نے ایف آئی اے کو بھیج دیا ہے،ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔چےئرمین نے کہا کہ اس آڈٹ اعتراض کے بعد دیگر منصوبوں کا ازسر نو جائزہ اور سروے شروع کردیا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام نے کہا کہ انکوائری ہوئی ہے انویسٹی گیشن ابھی شروع نہیں کی گئی،نوید قمر نے کہا کہ انکوائری اس وقت تک کریں گے جب ملزم بھاگ جائے گا،ایف آئی اے حکام نے کہا کہ انکوائری رپورٹ پی اے سی کو بھجوا دیں گے۔

عاشق گوپانگ نے کہا کہ ٹینڈر سے پہلے تحقیقات ہونی چاہئے اور ناقص جگہ پر تعمیرات کی اجازت اور لاگت میں اضافہ کرنے والے مجرم ہیں۔چےئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ٹیکنیکل مشاورت کی گئی ، عاشق گوپانگ نے اس معاملہ کی ابتدائی میں ہونے والی بولی کو مشکوک قرار دیا اور کہا کہ سرکاری افسران دایاں ہاتھ دکھا کر بایاں مار دیتے ہیں،افسران شوکاز نوٹس جاری کرکے معاملہ نہ دبائیں،اس معاملہ میں انکوائری کی ضرورت نہیں ہے،انکوائری مکمل ہونے تک ملزمان ریکارڈ ہوجائیں گے،چےئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ کرپشن کرنے والے ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔

عاشق گوپانگ نے کہا کہ غلط ڈیزائن اور تخمینہ لگانا بھی جرم ہے اس کی انکوائری کا کیا فائدہ ہے۔آڈٹ حکام نے کہا کہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان