دہشتگردی کے خلاف سندھ ایکشن پلان پرفوری اور قلیل مدت میں نظر آنیوالے نتائج کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
پچھلی خبریں -

کراچی

تلاش کیجئے

دہشتگردی کے خلاف سندھ ایکشن پلان پرفوری اور قلیل مدت میں نظر آنیوالے نتائج کے حصول کو یقینی بنایا جائے،لوگوں کے اعتماد کو بھی بحال کیا جائے،قائم علی شاہ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 جنوری۔2015ء) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کے قومی ایکشن پلان کے تحت بنائی گئی صوبائی ایپیکس کمیٹی کے اراکین سے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف سندھ ایکشن پلان پرفوری اور قلیل مدت میں نظر آنے والے نتائج کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور لوگوں کے اعتماد کو بھی بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی جیسی لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے یہ اہم وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں انسرجنسی(Insurgency )جیسی صورتحال کا سامنا ہے اور اس غیر معمولی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے دہشتگردوں کے خلاف ملٹری کورٹس کا قیام کوئی معمولی قدم نہیں ہے بلکہ یہ معاشرے سے دہشتگردی جیسے ناسور کے خاتمے کیلئے ایک اہم اور بڑا قدم ہے ، جس سے ملکی و قومی یکجھتی کو فروغ اورسالمیت کو استحکام حاصل ہوگا۔

انہوں نے اس امر کا اظہار وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایپیکس کمیٹی کے پہلے اجلاس سے اپنا صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے قومی ایکشن پلان کی رہنمائی کے تحت سندھ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے غور و خوص کیا گیا۔ اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، کورکمانڈر کراچی جنرل نوید مختار،صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن،صوبائی وزیر پارلیامانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو، چیف سیکریٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر نیاز عباسی، ڈی جی رینجرز بلال اکبر،آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی حکومت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان