آئین میں 21ویں ترمیم کا فیصلہ پیپلز پارٹی نے خوشی یا شوق سے نہیں کیا ہے، شرجیل میمن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

آئین میں 21ویں ترمیم کا فیصلہ پیپلز پارٹی نے خوشی یا شوق سے نہیں کیا ہے، شرجیل میمن ، پیپلز پارٹی اس ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے ، جس نے ہمیشہ مارشل لاء کے خلاف جدوجہد کی ہے،21ویں ترمیم کے بعد وفاق کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں، میڈیا کو بریفنگ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 جنوری۔2015ء) سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آئین میں 21ویں ترمیم کا فیصلہ پیپلز پارٹی نے خوشی یا شوق سے نہیں کیا ہے، پیپلز پارٹی اس ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے ، جس نے ہمیشہ مارشل لاء کے خلاف جدوجہد کی ہے،21ویں ترمیم کے بعد وفاق کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔

اجلاس میں کور کمانڈر سندھ ، سیکرٹری داخلہ، گورنر سندھ، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز کے علاوہ متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی تھی اور 21ویں ترمیم کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت صوبے تمام وہ اہم مقدمات جو مذہبی اور فرقہ وارانہ کیسز کے علاوہ دہشتگردی کے دیگر کیسز کو فاق کو بھیجا جائے گا اور وہ اس کی اسکرونٹی کے بعد انہیں آرمی کورٹس کو بھیج دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنے دفتر میں ایپیکس سندھ چیپٹر کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ کی زید صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر سیکرٹری داخلہ نیاز عباسی اور سیکرٹری اطلاعات ذوالفقار شالوانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اجلاس میں 21ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق کی جانب سے صوبوں کو ملنے والی ہدایات اور اس سلسلے میں صوبے کے ذمے دی جانے والی ذمہ داریوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت صوبے براہ راست آرمی کورٹس کو کوئی کیس نہیں بھیج سکتی بلکہ صوبے وہ تمام کیسز جو آئین اور قانون کے تحت 21ویں ترمیم کے زمرے میں آتے ہیں ان کو وفاقی محکمہ داخلہ کو ارسال کرے گی اور وفاقی وزارت داخلہ ان کیسز کی اسکرونٹی کے بعد انہیں آرمی کورٹس میں بھیج دیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو ہدایات دیں ہے کہ وہ ایسے تمام کیسز جو اس زمرے میں آتے ہیں ان کو ایپیکس میں لائیں تاکہ اس کی مکمل چھان بین کے بعد ان کیسز کو وفاق کو بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ائرپورٹ، مہران بیس کیس، سانحہ 18اکتوبر سمیت دیگر دہشتگردی کے کیسز کو وفاقی محکمہ داخلہ میں بھیجے جانے پر اتفاق کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایسے تمام کیسز جو انسداد دہشتگردی کے زمرے میں آتے ہیں ان کو بھی بھیجا جائے گا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس وقت 375کیسز ایسے ہیں جس پر سندھ اور سپریم کورٹس جبکہ ایک کیس جی ایچ کیو میں زیر سماعت ہے جبکہ 3000کیسز ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے ہیں، جن میں سے صرف 50ملزمان پر فرد جمر عائد ہوسکا ہے باقی مانددہ کیسز یا تو تاخیر کا شکار ہیں جبکہ کئی کیسز میں تو صرف ملزمان کو معزز عدالتوں نے 6چھ گھنٹوں کی سزائیں دے کر رہا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 20اہم نکات میں سے 14نکات صوبائی حکومتوں کے زمرے میں آتے ہیں اور ان تمام کیسز کے حوالے سے ایپیکس میں غور کرکے ان کو وفاقی وزارت داخلہ کے سپرد کیا جائے گا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایپیکس کمیٹی کے سربراہ وزیر اعلیٰ سندھ ہوں گے جبکہ ان کی مزید 4ذیلی کمیٹیوں میں ایگزیکیوشن کمیٹی اور لیگل سب کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری داخلہ سندھ ہوں گے اس کے علاوہ تحقیقاتی اور میڈیا کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اجلاس میں صوبے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں، جس کے تحت اب صوبے بھر میں کرایے پر مکان لینے اور دینے والوں کو اب رجسٹریشن کروانی ہوگی اور اس سلسلے میں جلد قانونی میں ترمیم کرلی جائے گی۔

صوبے میں موجود غیر قانونی تارکین وطن اور افغان مہاجرین کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور اس سلسلے میں صوبے کے تمام ڈویژن کمشنرز کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ بلڈرز، پیٹرول پمپس مالکان، ہوٹلوں، دیہی علاقوں میں اینٹوں کے بھٹے مالکان، دکانداروں اور ان گھروں کے مالکان سے رابطہ کرکے ان سے آگاہی حاصل کریں گے اور انہیں باور کرایا جائے گا کہ وہ اپنے یہاں موجود غیر قانونی تارکین وطن اور افغان مہاجرین کو فوری طور پر اپنے یہاں سے ہٹا دیں۔

انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور گھروں اور دکانوں کے مالکان پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود اور رکھے جانے والے ملازمین کے تمام کاغذات اور قومی شناختی کارڈ کی مکمل چھان بین کے بعد انہیں ملازمت پر رکھیں اور ان تمام کے لئے وقت دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں نادرا سے بھی رابطے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ غلط شناختی کارڈ کے اجراء کو روکنے میں بھرپور کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں دہشتگردوں اور دہشتگردی سے نبردآزما ہونے کے لئے 1ہزار نوجوانوں پر مشتمل کاؤنٹر ٹیررزم فورس (انسداد دہشتگردی فورس) قائم کی جائے گی اور اس فورس میں بھرتیوں کو میرٹ اور اہل نوجوانوں کی بھرتیوں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے ایک مانٹرنگ کمیٹی بھی بنائی جارہی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ صوبے میں 270سیکورٹی کمپنیوں میں 60ہزار سے زائد ملازمین ہیں، جن میں غیر قانونی تارکین وطن، افغان مہاجرین اور جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی کی بھی رپورٹ ہیں، جس پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان تمام کی اسکرونٹی کی جائے گی اور اگر کوئی ایسا ملوث پایہ گیا تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوسٹ قائم کی جارہی ہیں، جس کا مقصد دوسرے علاقوں سے صوبے میں آنے والوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں 500 تارگٹ کلرز اور 450جرائم پیشہ اور اغواء برائے تاوان میں ملوث ملزمان مفرور ہیں، جس پر ان تمام کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ عوام اور خفیہ اداروں کی مدد سے ان تمام ملزمان کو گرفتار کیا جاسکے ۔

انہوں نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر، وال چاکنگ اور نفرت انگیز لٹریچرز کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے بھی سخت اقدامات کرنے کی اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایات جاری کی ہیں اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایات دیں ہے کہ وہ آج کے اجلاس میں ہونے والے تمام فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز جس میں سیاسی جماعتیں، پاک فوج اور امن و امان کی بحالی کے ادارے ایک نکتہء پر متفق ہیں کہ صوبے اور اس ملک سے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کا خاتمہ کیا جائے اور آج کے اجلاس میں کور کمانڈر سندھ نے اپنے مکمل تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

صولت مرزا کی پھانسی کی سزا کو روکے جانے کے سوال پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس کے احکامات وفاقی وزارت داخلہ سے آئے ہیں اس لئے اس کا جواب وفاقی وزیر داخلہ ہی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر جس طرح کی بھی خبریں چلیں ہمیں اب اس ملک سے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملٹری کورٹس کی تعداد اور کہاں کہاں بنائے جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام تر اختیارات وفاقی وزارت داخلہ کے پاس ہیں اور ان کا وہی جواب دے سکتے ہیں۔

ہمارا کام دہشتگردی ، مذہبی انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے زمرے میں ہونے والے تمام اہم کیسز کو ایپیکس کے ذریعے وفاقی وزارت داخلہ کو بھیجنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 21ویں ترمیم کا فیصلہ پیپلز پارٹی نے خوشی یا شوق میں نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی اس ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے، جس نے ہمیشہ مارشل لاء کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ ہم نے یہ فیصلہ عوامی مفاد میں کیا ہے۔ہم عوام کی جماعت ہیں اور اس ملک میں جہاں معصوم بچوں کو، پولیس افسران کو ، فوجی جوانوں اور قومی اداروں پر ہملے کئے جاتے ہوں وہاں پر اس طرح کے مشکل اور سخت فیصلے عوامی مفاد کے لئے ضروری بن جاتے ہیں۔

09-01-2015 :تاریخ اشاعت