21ویں آئینی ترمیم جانبدارانہ ،غیرمنصفانہ اورغیرحقیقت پسندانہ ہے ،ماہرین سے مشاورت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
تاریخ اشاعت: 2015-01-09
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

21ویں آئینی ترمیم جانبدارانہ ،غیرمنصفانہ اورغیرحقیقت پسندانہ ہے ،ماہرین سے مشاورت کے بعدسپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ،وفاق المدارس العربیہ،عسکری قیادت سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کرناچاہتے ہیں ، وفاقی حکومت سے بھی مذاکرات کے حامی ہیں ،2005ء کے مدارس آرڈیننس پر عملدرآمدکیاجائے ،کسی مدرسہ سے شکایت کی جائے تومدارس کی تنظیمات سے رابطہ کیاجائے،ایم کیوایم کی قیادت کااحترام کرتاہوں ،ان ہی کی زبان میں جواب دینامناسب نہیں سمجھتا،ایم کیوایم پرسے پرندہ بنالیتیہے جوکہ مناسب نہیں ،ہم ہمیشہ دلائل سے بات کرتے ہیں ،مولانافضل الرحمن ، سانحہ پشاورکی شدیدمذمت کرتے ہیں ،سانحہ کی آڑمیں مدارس کودہشتگردی کے مراکزظاہرکرنے کی کوشش کی گئی جوقابل مذمت ہے،مفتی رفیع عثمانی،قاری حنیف جالندھری نے سانحہ پشاورکے حقائق سامنے لانے کامطالبہ کردیا،اعلامیہ جاری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 جنوری۔2015ء)وفاق المدارس العربیہ نے 21ویں آئینی ترمیم کوجانبدارانہ ،غیرمنصفانہ اورغیرحقیقت پسندانہ قراردیتے ہوئے مستردکرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کاعندیہ دیدیا،تمام مدارس کی تلاشی لی جائے ،کہیں سے کوئی دہشتگردی کاسامان یااسلحہ برآمدنہیں ہوگا،مدارس عسکریت پسندی نہیں بلکہ امن پسندی کادرس دیتے ہیں ،مفتی رفیع عثمانی نے کہاہے کہ سانحہ پشاورکی شدیدمذمت کرتے ہیں ،مگرسانحہ کی آڑمیں مدارس کودہشتگردی کے مراکزظاہرکرنے کی کوشش کی گئی جوقابل مذمت ہے ،مولانافضل الرحمن نے آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کی خواہش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ عسکری قیادت کواپنے تحفظات سے آگاہ کرناچاہتے ہیں جبکہ وفاقی حکومت سے بھی مذاکرات کے حامی ہیں ،2005ء کے مدارس آرڈیننس پربھی عملدرآمدکیاجائے ،کسی مدرسہ سے شکایت کی جائے تومدارس کی تنظیمات سے رابطہ کیاجائے،ایم کیوایم کی قیادت کااحترام کرتاہوں ،ان ہی کی زبان میں جواب دینامناسب نہیں سمجھتا،ایم کیوایم پرسے پرندہ بنالیتی ہیں جوکہ مناسب نہیں ،ہم ہمیشہ دلائل سے بات کرتے ہیں ،جبکہ قاری حنیف جالندھری نے سانحہ پشاورکے حقائق سامنے لانے کامطالبہ کردیا۔

جمعرات اورجمعہ کی درمیانی شب وفاق المدارس العربیہ کاطویل ترین اجلاس مولاناعبدالرزاق سکندرکی زیرصدارت اسلام آبادکے مقامی ہوٹل میں شروع ہوا،اجلاس میں مفتی رفیع عثمانی ،جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمن ،وفاق المدرس العربیہ کے سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندری ،جامعہ بنوری ٹاوٴن کراچی کے مہتمم مفتی نعیم سمیت کراچی تاخیبرتمام مدارس کے جیدعلماء کرام اوراساتذہ کرام نے شرکت کی ۔

اجلاس میں کہاکہ ملک کی مجموعی سیاسی وامن وامان کی صورتحال باالخصوص وفاقی حکومت کی جانب سے سانحہ پشاورکے بعدقومی ایکشن پلان اوراکیسویں آئینی ترمیم کے بعدکی صورتحال کاجائزہ لیاگیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں قاری حنیف جالندھری نے اکیسویں آئینی ترمیم اورقومی ایکشن پلان بارے علماء کرام اوروفاقی وزراء اوراتحادتنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت سے ہونے والی بات چیت بارے آگاہ کیاجبکہ مولانافضل الرحمن نے مذہبی سیاسی جماعتوں سے رابطوں اورجمعرات کے روزہونے والے اجلاس بارے بھی علماء کرام کوآگاہ کیا۔

اس موقع پراکیسویں ترمیم کی صورت میں پاس ہونے والے بل کابغورجائزہ لیاگیااوراس کی روشنی میں متفقہ اعلامیہ تیارکیاگیا۔اجلاس میں نمازعشاء کے وقفے کے دوران صحافیوں کواعلامیہ جاری کیاگیا۔اعلامیے میں کہاگیاہے کہ وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کے اجلا س میں ملک بھرسے وفاق المدارس العربیہ کے رہنماوٴں نے شرکت کی ۔ہم سانحہ پشاورکی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں اورمطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف بلاتفریق اقدامات اٹھائے جائیں ۔

انہوں نے کہاکہ اعلامیہ میں کہاگیاکہ اکیسویں آئینی ترمیم جانبدار،غیرمنصفانہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09-01-2015 :تاریخ اشاعت