پی اے سی کی سی ڈی اے کے میگا سکینڈل کی جلد تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت، سی ڈی اے بورڈ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
-

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پی اے سی کی سی ڈی اے کے میگا سکینڈل کی جلد تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت، سی ڈی اے بورڈ مادر پدر آزاد نہیں کہ قوانین تبدیل کرکے من پسند افراد کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچائے،خورشید شاہ،سی ڈی اے میں اربوں کی مبینہ کرپشن سکینڈل کی تحقیقات مکمل کرلیں اگلے ہفتے حتمی رپورٹ پی اے سی کو بھیج دی جائے گی،نیب حکام کی یقین دہانی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔8 جنوری۔2015ء)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے سی ڈی اے کے میگا سکینڈل کی جلد تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اورکہا ہے کہ سی ڈی اے بورڈ مادر پدر آزاد نہیں کہ قوانین تبدیل کرکے من پسند افراد کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچائے جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے پی اے سی کو بتایا کہ نیب حکام نے سی ڈی اے میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن سکینڈل تحقیقات مکمل کرلی ہیں اگلے ہفتے حتمی رپورٹ پی اے سی کو بھیج دی جائے گی۔

پی اے سی کا اجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہوا اجلاس کی صدارت چیئرمین سید خورشید شاہ نے کی۔ اجلاس میں نوید قمر ‘ عذرا پلیجو ‘ چوہدری جنید ‘ صاحبزادہ نذیر سلطان‘ جعفر لغاری‘ راجہ جاوید اخلاص‘ عبدالمنان وغیرہ نے شرکت کی۔ پی اے سی کے اجلاس میں سی ڈی اے کے مالی سال 2011-12 ء کے مالی معاملات پر آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گرانڈ حیات ہوٹل کو پلاٹ کی الاٹمنٹ اور سی ڈی اے کی طرف سے رقم وصول کئے بغیر پلاٹ کی ملکیت دینا، سیکٹر ڈی 12 میں ترقیاتی کاموں کیلئے کنٹریکٹر کو بھاری رقوم کی فراہمی، آرٹ اینڈ کرافٹس ویلج میں کرپشن سکینڈل ، گن کلب کرپشن سکینڈل وغیرہ جیسے سکینڈل زیر بحث لائے گئے۔

نیب نے پی اے سی کو بتایا کہ سی ڈی اے میں کرپشن سکینڈل کی تحقیقات اب حتمی مرحلہ میں ہیں‘ حتمی انکوائری رپورٹ جنوری کے آخری ہفتے تک مکمل ہوجائے گی۔ پی اے سی کے ممبر نے کہا کہ گرانڈ حیات ہوٹل سکیورٹی رسک ہے ، ہوٹل کے ارد گرد ڈپلومیٹک انکلیو ‘ سپریم کورٹ ‘ پارلیمنٹ اور دفتر خارجہ کے دفاتر موجود ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے معروف افضل نے پی اے سی کو بتایا کہ 44 ایکڑ سپورٹس بورڈکے لئے مختص کی گئی اس کے پاس صرف 34 ایکڑ زیر استعمال ہے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

چیئرمین نے بتایا کہ یہ معاملہ ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ خورشید شاہ کو بتایا گیا کہ یہ زمین وزارت سپورٹس کی ملکیت ہے تو یہ سی ڈی اے کی زمین نہیں ہے۔ سی ڈی اے نے 99 سال کیلئے لیز پر دی تھی نقصان وزارت سپورٹس کا ہے۔ آڈٹ آفیسر نے زمین کی منتقلی پر شدید اعتراض اٹھایا اور کہا کہ سی ڈی اے قانون کے تحت آگے نہیں دے سکتا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ زمین کی ملکیت اب بھی سی ڈی اے کے پاس ہے سپورٹس بورڈ کو ٹرانسفر نہیں ہوئی۔

نوید قمر نے کہا کہ سی ڈی اے کے موقف میں مبہم ہے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ سی ڈی اے کا گن کلب سے کوئی تعلق نہیں ہے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے اہم سوال اٹھایا کہ جو زمین سپورٹس بورڈ نے سی ڈی اے سے لیز پر لی ہے تو کیا آگے یہ دے سکتا ہے۔ خورشید شاہ نے متفقہ طور پر اس اہم مسئلے کو عدالت کے فیصلے تک ملتوی کردیا۔ سیکٹر ڈی 12 میں کنٹریکٹر کو 159 ملین روپے ادا کرنے کے اقدام پر سی ڈی اے کے خلاف آڈٹ اعترض اٹھایا گیا اور اس سکینڈل کی مزید تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ آرٹ اینڈ کرافٹ ویلج کی الاٹمنٹ پر بھی آڈت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں یہ این جی اوز انڈس کرافٹس کو ٹھیکہ دیا گیا ۔ چیئرمین سی ڈی اے معروف افضل نے بتایا کہ اس اہم معاملہ کی انکوائری شروع کی گئی ہے اہم سراغ مل گئے ہیں کاغذات غائب کردیئے گئے تھے جلد حتمی رپورٹ پی اے سی میں پیش کردی جائے گی۔ پی اے سی نے گرانڈ حیات ہوٹل کو پلاٹ الاٹمنٹ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

چیئرمین سی ڈی اے نے بتایاکہ یہ ہوٹل کا رقبہ ساڑھے تیرہ ایکڑ ہے۔ 2004 ء میں پلاٹ کی بولی ہوئی پانچ فرموں نے حصہ لیا۔ پی ایم ٹی گروپ نے سب سے زیادہ بولی دی جو 27500 کے قریب فی گز بولی دی۔ پندرہ سالوں میں رقم دینے کا معاہدہ ہوا ۔ زلزلہ کی وجہ سے ہوٹل کا ڈیزائن بھی تبدیل کیا۔ سول ایوی ایشن نے بھی ڈیزائن تبدیل کرنے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ 2012 ء میں ادائیگی کا پلان تبدیل کیا۔ 97 کروڑ روپے وصول کئے ہیں جبکہ چار ارب روپے ابھی وصول کرنے ہیں یہ مقدمہ ایف آئی اے اور نیب کے حوالے کردیا ہے۔

آکشن 4.8 ارب روپے میں کیا پندرہ فیصد لینے کے بعد پلاٹ کی ملکیت دی گئی ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سی ڈی اے نے یہ بہت جرم کیا ہے مالک نے ڈیڑھ دو ارب روپے کا قرضہ بھی لیا ہے جبکہ سی ڈی اے کو 99 ملین اداکئے ہیں سی ڈی اے بورڈ کے پاس ایسے اختیار تھے کہ قوانین تبدیل کرکے مرضی کا فیصلہ کر سکیں ۔ یہ سوال میاں منان نے اٹھایا۔ انکوائری رپورٹ مکمل ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ کسی کا دفاع نہیں کررہا۔ ایم این اے جنید نے سوال اٹھایا کہ حیات گرانڈ ہوٹل سکیورٹی رسک بھی ہے۔

یہ مقدمہ اب نیب کے پاس بھی ہے ایف آئی اے نے بھی انکوائری کی ہے ۔ نیب کے ڈائریکٹر عاصم لودھی نے کہاکہ اس سکینڈل کی تحقیقات آخری مرحلہ میں ہے اس سکینڈل کے تمام پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے جنوری کے آخری ہفتہ تک رپورٹ مکمل ہوجائے گی۔ ایم این ا ے جنید نے سنٹورس کی طرف سے سی ڈی اے کے پلاٹ پر قبضہ کا معاملہ بھی اٹھایا رپورٹ ابھی تک فراہم نہیں کی گئی ہے چیئرمین نے کہاکہ یہ رپورٹ جلد فراہم کردی جائے گی۔

08-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان