ہندو خواتین زیادہ بچے پیدا کریں،سخت گیر ہندو بھارتی رکن پارلیمنٹ کے بیان پر غم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
- مزید خبریں

تلاش کیجئے

ہندو خواتین زیادہ بچے پیدا کریں،سخت گیر ہندو بھارتی رکن پارلیمنٹ کے بیان پر غم و غصے کا اظہار

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔8 جنوری۔2015ء)ایک سخت گیر ہندو بھارتی رکن پارلیمنٹ کے اس بیان نے ملک میں غم و غصے کو جنم دیا ہے کہ ہندو مذہب کی حفاظت کے لیے ہندو خواتین کو کم از کم چار بچے پیدا کرنے چاہییں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساکشی مہاراج کے اس بیان کا مقصد مسلمانوں کے ساتھ کشیدگی پیدا کرنا ہے۔حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے ترجمان سنجے جھا نے ان کے اس بیان کو مضحکہ خیز اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

ساکشی مہاراج متنازع شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پچھلے ماہ انھوں نے مہاتما گاندھی کے قاتل کو محبِ وطن کہا تھا۔ایک اجتماع سے خطاب کے دوران ساکشی مہاراج نے مسلمانوں کو، جنھیں چار شادیاں کرنے کی قانونی اجازت ہے، تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’چار بیویوں اور 40 بچوں کا تصور بھارت میں نہیں چلے گا، وقت آگیا ہے کہ ہندو عورتیں اپنے مذہب کو بچانے کے لیے کم سے کم چار بچے پیدا کریں۔‘ بی بی سی کے مطابق ہندو انتہاپسند اکثر مسلمانوں پر اپنی آبادی بڑھانے کی نیت سے زیادہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان