ارکان قومی اسمبلی کا ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قوانین پر سختی سے عملدرآمد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

ارکان قومی اسمبلی کا ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور پختونوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا مطالبہ، پختونوں کے خون کا ازالہ نہ کیا گیا تو نتائج بھیانک ہوں گے،حاجی غلام احمد بلور، افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے طریق کار مرتب کرنے کا بھی مطالبہ،قومی اسمبلی میں سانحہ پشاور پر بحث

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔8 جنوری۔2015ء )ارکان قومی اسمبلی نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور پختونوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پختونوں کے خون کا ازالہ نہ کیا گیا تو نتائج بھیانک ہوں گے اور زور دیا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے طریق کار مرتب کیا جائے۔قومی اسمبلی میں سانحہ پشاور پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی غلام احمد بلور نے کہا کہ خیبر پختونخواہ دہشتگردی کی وجہ سے میدان جنگ بنا ہوا ہے ہر جگہ دھماکے ہورہے ہیں بازاروں، مساجد اور اب سکولو ں میں شروع ہوئے ، سانحہ پشاور کے بعد پورا شہر تباہی و بربادی کا منظر پیش کررہا تھا معصوم بچوں کے جنازے ہر گلی سے نکلے، دہشتگردوں نے پشاور میں ایک نئی کربلا رقم کی، آئینی ترمیم بل پر سب کا مشکور ہوں جس نے ووٹ دیا ان کا اور جس نے نہیں دیا ان سب کا مشکور ہوں کہ دہشتگردی کیخلاف ایک منظم پالیسی بنائی گئی ہے ملک میں امن کی خاطر قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس بل کے حق میں ووٹ دیا تاکہ دہشتگردی کے گند کو ملک کے کونے کونے سے نکالا جائے ۔

فاٹا کے رکن قومی اسمبلی جی جی جمال نے کہا کہ دہشتگردی کا مسئلہ سنگین ہے یہ معاملہ حکومت کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے اور ریاست کو بذات خود خطرہ ہے دہشتگردی سے جس کے لئے ووٹ دیا دہشتگردی بڑھتے بڑھتے اب معصوم جانوں تک پہنچ گئی ہے 80کی دہائی سے جاری 39سالہ جنگ معصوم بچوں تک پہنچ گئی بے روزگاری، بھوک ، اور آپریشن ختم کرنے سے دہشتگردی ختم کی جاسکتی ہے اگر پختون کے زخم پر مرہم پٹی نہ رکھی گئی اور ان کے خون کا ازالہ نہ کیا گیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے ۔

شمال مشرقی سرحد کے لیے محافظ سب کو برداشت کرتے ہیں لیکن یہ کبھی برداشت نہیں کرتے کہ وہ ذلیل ہوجائے اس کو کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا اس کے بعد فاٹا اراکین اپنا واک آؤٹ جاری رکھے ہوئے ایوان سے باہر جائینگے ۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بجٹ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور ایسا واقعہ ہے جو کبھی نہیں بھول سکتے اور سالوں تک پوری قوم کی آنکھوں میں جھلکتے رہیں گے جو قوم کا سرمایہ تھا جتنی بھی تقاریر سولہ دسمبر کے حوالے سے ممبران قومی اسمبلی نے کیں مرتب کرکے شہداء کے والدین تک پہنچائی جائیں، آئینی ترامیم بل میں سینٹ میں رضا ربانی نے جس طرح اپنے جذبات پر قابو نہ پایا کیونکہ آئین میں ملٹری کو رٹس کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن ملک کی خاطر سب

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان