ایف سی اور دیوان گروپ کے مابین 113گاڑیوں کے سلسلے میں جاری تنازعہ کا خاتمہ، وزارت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

ایف سی اور دیوان گروپ کے مابین 113گاڑیوں کے سلسلے میں جاری تنازعہ کا خاتمہ، وزارت خزانہ نے امداد کی یقین دہانی کرادی،ایف سی دیوان گروپ کے نمائندوں نے معاہدے پر دستخط کر دئیے ،حکومت ملک سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور مدد کرے گی،وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، وزیر خزانہ کی سعودی سفارت خانے کے چارج ڈی آفئیر جاسم الخالدی سے ملاقات

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔8 جنوری۔2015ء)فرنٹیئر کنسٹیبلری اور دیوان گروپ کے مابین 113گاڑیوں کے سلسلے میں 6سالوں سے جاری تنازعے کو ختم کرنے کے سلسلے میں وزارت خزانہ نے امداد کی یقین دہانی کرادی ایف سی دیوان گروپ کے نمائندوں نے معاہدے پر دستخط کر دئیے حکومت ملک سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور مدد کرے گی ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک میٹنگ سے اظہار خیال کے دوران کیا میٹنگ میں فرنیٹیر کنسٹیبلری کے افسران اور دیوان گروپ کے نمائندوں کے علاوہ ایف بی آر کے افسران بھی موجود تھے ایف سی کو 113گاڑیوں کی فراہمی کے سلسلے میں دیوان گروپ اور ایف سی کے مابین سیلز ٹیکس ڈالر کی شرح میں اضافے کسٹم ڈیوٹی اور پینل سرچارج کا تنازعہ 2008سے چلا آرہا تھا اور دونوں ادارے ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے تھے اس تنازعے کو حل کرنے کیلئے وزارت داخلہ نے وزارت خزانہ کو درخواست کی تھی اس سلسلے میں وفاقی وزیر خزانہ کی قیادت میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیاوزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دیوان گروپ کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ شرح کے مطابق ایف سی کے بقایا جات ادا کرے اور اگر اس رقم سے ایف سی کے حکام کو سیلز ٹیکس کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے کا مسئلہ ہو تو اس سلسلے میں مذید ضروری فنڈز وزارت خزانہ فراہم کرے گی انہوں نے ایف سی حکام اور دیوان گروپ کو ہدایت کی کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف دائردرخواستیں واپس کر لیں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ گاڑیوں پر عائد جرمانہ معاف کر دیا جائے گا انہوں نے دونوں ایف سی اور دیوان گروپ کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کرلیں تاکہ مسائل ختم ہوسکیں انہوں نے کہاکہ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش ضروریات کو پورا کرنے اور انہیں عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لئے بھرپور تعاؤن کرے گی اور ایف سی کو گاڑیوں کی فراہمی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

ادھروفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی معیشت کو بے حد نقصان پہنچا ہے اس وقت تک نقصانات 100بلین ڈالرسے تجاوز کرچکے ہیں سعودی سفارت خانے کے چارج ڈی آفئیر جاسم الخالدی نے کہا ہے کہ سعود ی حکومت دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہے یہ صرف پاکستان کی جنگ نہیں ہے ہر مشکل وقت میں سعودی حکومت پاکستان کی امداد کرے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران کیا اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے انہیں اپریشن ضرب عضب کے بارے میں تفصیلی طورپر اگاہ کیا اور بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس وقت تک 100بلین ڈالرکا نقصان ہوچکا ہے انہوں نے کہاکہ ضرب عضب کی وجہ سے لاکھوں قبائلی بے گھر ہوچکے ہیں اور انہیں دوبارہ اپنے گھروں کو بھجوانے کے لئے بھی پاکستان کو ایک بڑے امداد کی ضرورت ہے وزیر خزانہ نے سعودی حکومت کی جانب سے ہر مشکل مرحلے پر پاکستان کی مدد پر سعود ی حکومت کا شکریہ ادا کیا انہوں نے سعودی عرب کے مرمانروا شاہ عبداللہ کی صحت کے بارے میں بھی پاکستانی حکومت اور عوام کی تشویش سے اگاہ کیا اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اس موقع پر جاسم الخالدی نے کہا کہ سعودی حکومت ہر مشکل مرحلے میں پاکستان کی مدد کرے گاشیخ جاسم الخالدی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے شاہ عبداللہ کی صحت بارے تشویش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ شاہ عبداللہ کی صحت روزبروز بہتر ہو رہی ہے اس موقع پر انہوں نے سعودی حکومت کی جانب سے آزادکشمیر کے صدر مقام مظفر آباد کے چیلہ بانڈی روڈ کیلئے 206ملین سعودی ریال کے قرضے کا خط بھی دیا یہ قرضہ صرف 2فیصد کی شرح پر دیا گیا جو 20سالوں میں واپس کیا جائے گاجبکہ اس قرضے میں 5سال کا وقفہ بھی دیا گیا ہے وفاقی وزیر خزانہ نے سعودی حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی پران کا شکریہ ادا کیا۔

08-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان