پاکستان اور بحرین کا دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ،تعلیم ،ثقافت،تجارت و معیشت سمیت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
تاریخ اشاعت: 2015-01-08
پچھلی خبریں -

تلاش کیجئے

پاکستان اور بحرین کا دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ،تعلیم ،ثقافت،تجارت و معیشت سمیت توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار،ایک سمجھوتہ اور پانچ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ،علاقے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اورانتہاء پسندی کے تناظرمیں دفاعی تعاون انتہائی اہم ہے،دونوں ملکوں کا اتفاق،دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری اولین ترجیح ہے،ہرقسم کی دہشتگردی کامقابلہ کرنے کاعزم کررکھاہے، دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پرکاربندہیں،نوازشریف، بحرین کی ترقی اوراستحکام میں پاکستانیوں کی خدمات قابل تحسین ہیں، بحرینی وزیراعظم،وزیراعظم نوازشریف کوبحرین کی جانب سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈسے نوازاگیا

مناما(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔8 جنوری۔2015ء)پاکستان اور بحرین نے دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ،تعلیم ،ثقافت،تجارت و معیشت سمیت توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ایک سمجھوتہ اور پانچ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں اور اتفاق کیاہے کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اورانتہاء پسندی کے تناظرمیں دفاعی تعاون انتہائی اہم ہے ۔وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف نے کہاہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اورپاکستان نے ہرقسم کی دہشتگردی کامقابلہ کرنے کاعزم کررکھاہے،پاکستان دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پرکاربندہے اورخطے کے تمام ممالک سے پرامن اورتعاون پرمبنی تعلقات چاہتاہے ۔

جبکہ بحرین کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں پاکستانی سیکورٹی اوردفاعی خدمات سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔بحرین کی ترقی اوراستحکام میں پاکستانیوں کی خدمات قابل تحسین ہیں۔وزیراعظم محمدنوازشریف اوربحرین کے وزیراعظم شیخ خلیفہ بن سلمان الخلیفہ کے درمیان غودیبیہ محل میں وفودکی سطح پرمذاکرات ہوئے ،وزیراعظم نے پاکستانی وفدکے شاندارخیرمقدم پربحرین کی حکومت کاشکریہ اداکیا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اوربحرین کااہم علاقائی اورعالمی امورپرنقطہ نظریکساں ہے اورہمارے درمیان اقوام متحدہ اوردیگربین الاقوامی اداروں میں قریبی تعاون مثالی ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اقتصادی تعلقات کومزیدبڑھانے کیلئے بحرین کے ساتھ مل کرکام کرناچاہتاہے تاکہ باہمی تعلقات کی طرح اس تعاون میں بھی گرم جوشی نظرآئے ۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارتی حجم بڑھانے کے وسیع مواقع موجودہیں جواس وقت بیس کروڑڈالرہے ،پاکستان سرمایہ کاروں کیلئے ایک پرکشش ملک ہے کیونکہ یہاں آزادانہ سرمایہ کاری پالیسی اورزائدشرح سے منافع حاصل کیاجاسکتاہے ۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان تمام شعبوں خاص طورپرپن بجلی ،کوئلہ ،تیل اورگیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کاخیرمقدم کریگا۔انہوں نے پاکستان اوربحرین کی مشترکہ بزنس کونسل کودوبارہ فعال بنانے کی ضرورت پرزوردیاجو2007ء میں قائم کی گئی تھی ۔وزیراعظم نے سانحہ پشاورپرافسوس کاپیغام بھیجنے پربھی بحرین کی حکومت کاشکریہ اداکیا۔دونوں ملکوں نے دفاع اورسیکورٹی کے شعبوں میں باہمی تعاون پراطمینان کااظہارکرتے ہوئے اتفاق کیاکہ علاقے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اورانتہاء پسندی کے تناظرمیں دفاعی تعاون انتہائی اہم ہے ۔

وزیراعظم نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اورپاکستان نے ہرقسم کی دہشتگردی کامقابلہ کرنے کاعزم کررکھاہے ۔مذاکرات میں ایک لاکھ پاکستانیوں کے امورپربھی غورکیاگیاجوبحرین میں مقیم ہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستانیوں کے لئے بحرین ایک پرکشش مقام ہے اورانہوں نے بحرین کی حکومت کی طرف سے بعض پاکستانیوں کودوہری شہریت دینے کے بارے میں فیصلے کاخیرمقدم کیا۔بحرین کے وزیراعظم نے کہاکہ ان کے ملک میں پاکستانی سیکورٹی اوردفاعی خدمات سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

انہوں نے بحرین کی ترقی اوراستحکام کیلئے پاکستانیوں کی خدمات کوسراہا۔علاقائی صورتحال کاذکرکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پرکاربندہے اورخطے کے تمام ممالک سے پرامن اورتعاون پرمبنی تعلقات چاہتاہے ۔مذاکرات کے بعددونوں وزرائے اعظم نے ایک تقریب میں شرکت کی جس میں سفارتی اورسرکاری پاسپورٹ کے حامل افرادکوتھوڑی مدت کاویزہ دینے کے استثنیٰ کے بارے سمجھوتے پردستخط کئے گئے ۔

دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی پانچ یادداشتوں پربھی دستخط کئے گئے جن کے تحت بحرین کی یونیورسٹی اورپاکستان کی قائداعظم یونیورسٹی ،دونوں ملکوں کی تجارت کی وزارتوں کے درمیان چھوٹے اوردرمیانے درجے کے اداروں کی ترقی میں تعاون ،ثقافت اورفنون میں تعاون ،تعلیم اوراعلیٰ تعلیم میں تعاون اوراسلام آباداورمناماکوجڑواں شہرقراردینے پراتفاق کیاگیاہے ۔وزیراعظم نے اپنے بحرینی ہم منصب کوسرمایہ کاری کے فروغ اورتحفظ کے بارے میں سمجھوتے کی توثیقی دستاویزبھی پیش کی ۔

بعدازاں بحرین کے وزیراعظم نے پاکستانی وفدکے اعزازمیں ظہرانہ دیااس موقع پروزیراعظم کے خصوصی معاونین طارق فاطمی اورکیپٹن (ر)شجاعت عظیم سمیت سفیرعمومی جاویدملک ،بحرین میں پاکستانی سفیرمحمدسعیدخان اوردیگرحکام موجودتھے۔وزیراعظم محمدنوازشریف کوبحرین کی جانب سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈسے نوازاگیا،وزیراعظم پاکستان کوبحرین کے دورہ کے موقع پربحرین کے شاہ حمدبن عیسی الخلیفہ نے محمدنوازشریف بحرین کااعلیٰ ترین سول ایوارڈدیا،وزیراعظم کویہ ایوارڈدوطرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے ان کی خدمات پردیاگیا۔

08-01-2015 :تاریخ اشاعت