مخصوص حالات میں عدالتیں انصاف نہیں دے رہی تھیں اسلئے فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

مخصوص حالات میں عدالتیں انصاف نہیں دے رہی تھیں اسلئے فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش آئی ،سینیٹر مشاہد اللہ ، عمران خان کے دھرنے جمہوریت کا حسن ہیں، عمران خان کی شادی ہوئی تو ان کو مبارکباد ضروردینگے ، ہم خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کرینگے ، دہشتگردی کیخلاف آئینی ترمیمی بل کی منظوری سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ حکومت فوجی عدالتوں کے حق میں ہے ، کوئی بھی جمہوری طاقتیں یہ نہیں چاہتی کہ عدلیہ کا نظام فوج کے حوالے ہو تاہم یہ وقت کی اہم ضرورت تھی ، نئے وفاقی وزیر کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔7 جنوری۔2015ء ) نئے وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ مخصوص حالات میں عدالتیں انصاف نہیں دے رہی تھیں اس لئے فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش آئی ، عمران خان کے دھرنے جمہوریت کا حسن ہیں، عمران خان کی شادی ہوئی تو ان کو مبارکباد ضروردینگے ، ہم خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کرینگے ، دہشتگردی کیخلاف آئینی ترمیمی بل کی منظوری سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ حکومت فوجی عدالتوں کے حق میں ہے ، کوئی بھی جمہوری طاقتیں یہ نہیں چاہتی کہ عدلیہ کا نظام فوج کے حوالے ہو تاہم یہ وقت کی اہم ضرورت تھی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران ۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے بعد یہ تاثر نہ لیا جائے کہ ملک کو فوج کے حوالے کردیا ہے اور اب عدالتی نظام فوج ہی چلائے گی بلکہ ہم چاہتے ہیں جو کام دو سال کے اندر ہو وہ صرف چھ ماہ کے اندر مکمل ہوجائے ۔ ملک کے اندر مخصوص حالات کی وجہ سے فوجی عدالتیں بنائی گئی ہیں حکومت انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکتی جس کی وجہ سے آئینی ترمیمی بل کو منظور کرنے پر مجبور ہوئے ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی جمہوری طاقتیں یہ نہیں چاہتی کہ ملک کے جمہوری نظام میں فوج کی عملداری ہو ۔

آنے والے عمران خان کے دھرنوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دھرنے بھی جموریت کا حسن ہیں ہم نے پہلے بھی عمران خان کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور اب بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے عمران خان نے نیک نیتی سے ملک کے جمہوری نظام کا حصہ بنے تو اس سے بڑی خوشخبری کوئی نہیں ہوسکتی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی شادی نیک شگون ہے اگر ان کی شادی ہوئی ہے تو تب بھی ان کو مبارک ہو نہیں ہوئی تب بھی مبارک اگر ہورہی ہے تب بھی مبارک ہو ۔ سینٹ میں رضا ربانی معتبر سینیٹر ہیں اٹھارہویں ترمیم میں ان کا کردار بھلایا نہیں جاسکتا لیکن ایمرجنسی حالات میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں جس سے ملک اور قوم کو فائدہ ہو

07-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان