دو سال میں دہشت گردی کا گند صاف کردیں گے،نواز شریف، قومی قیادت نے یکجہتی کا اظہار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

دو سال میں دہشت گردی کا گند صاف کردیں گے،نواز شریف، قومی قیادت نے یکجہتی کا اظہار کیا اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا، یہ ڈکٹیٹر شپ کے دورکی آئینی ترمیم نہیں ‘ 20 نکاتی ایجنڈے پر قانون سازی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی ،سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔7 جنوری۔2015ء) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دو سال میں دہشت گردی کا گند صاف کردیں گے قومی قیادت نے یکجہتی کا اظہار کیا اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا یہ ڈکٹیٹر شپ کے دورکی آئینی ترمیم نہیں ہے‘ 20 نکاتی ایجنڈے پر قانون سازی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی اس سلسلے میں ڈرافٹ تیار کیا جائے گا ۔ منگل کو سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوپا کے قانون پر بھی تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے ان پر بھی کام تیز کرنے کی ضرورت ہے‘ آل پارٹیز کانفرنس میں جتنی بھی سفارشات ہیں ان پر بھی کام تیز کرنے کی ضرورت ہے جس پر پارلیمنٹ کام کرے کیونکہ جو بیس نکاتی ایجنڈا ہے ان پر قوانین بنانے کی ضرورت ہے جس کا ایجنڈا تیار کرلیا گیا ہے جس پر سب کے تحفظات کا خیال رکھا جائے گا۔

میں سب پارٹیوں کا شکر گزار ہوں ہم مل کر دہشت گردی کو ختم کرکے دم لیں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے خود آکر اجلاس میں شرکت کی جن کا میں شکر گزار ہوں دوسرے سربراہان اسفندیار ولی‘ سراج الحق‘ چوہدری شجاعت حسین‘ مشاہد حسین سید نے مسلسل ادھر ادھر آتے جاتے رہے جن کا شکر گزار ہوں‘ میر حاصل بزنجو ‘ ڈاکٹر مالک ‘ عمران خان کا بڑا مشکور ہوں ‘ بیگم کلثوم پروین‘ محمود خان اچکزئی‘ مولانا فضل الرحمن کا بھی مشکور ہوں جن کے ووٹ سے ہم محروم رہے لیکن مسلسل موجود ہیں بی بی جمال‘ اعجاز الحق ‘ فاٹا کے تمام اراکین ‘ آفتاب شیر پاؤ ‘ افراسیاب خٹک کا بھی مشکور ہوں یہ فیصلہ آج پاکستان کی جمہوریت کا نہیں ‘ سینیٹ ‘ قومی اسمبلی کررہا ہے کوئی ڈکٹیٹر نہیں کررہا ہے بلکہ پاکستان کی منتخب حکومت اور قیادت کررہی ہے جس کا فیصلہ حکومت کرے گی کون خصوصی عدالت جائے گا اور کون نہیں جائے گا ۔

دو سال کی مدت میں دہشت گردی کا گند صاف ہوجائے گا سب کو دو سال تک اکٹھے رہنا پڑے گا میں چیئرمین سینیٹ اور پورے ایوان کا مشکور ہوں۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے سینٹ سے اپنے خطاب کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کا آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے تعاون پر شکریہ ادا کیا تاہم کسی بھی جماعت کا نام لینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں کسی ایک جماعت کا نام لوں گا تو دوسرے ناراض ہو جائیں گے اور یقین دلایا کہ اس کے تحت صرف وہی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

07-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان