”دہشت گردی کیخلاف اعلان جہاد“،قومی اسمبلی ، سینیٹ نے آئین میں اکیسویں ترمیم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
تاریخ اشاعت: 2015-01-07
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

”دہشت گردی کیخلاف اعلان جہاد“،قومی اسمبلی ، سینیٹ نے آئین میں اکیسویں ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل اتفاق رائے سے منظور کرلئے، 78 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا،جے یو آئی ف کے اراکین نے حصہ نہ لیا،وفاقی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف مقدمہ ان خصوصی عدالتوں کو منتقل کر سکے گی، فوجی عدالتوں کو دہشت گردی میں ملوث گروپوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا اختیار حاصل ہوگاجس کے خلاف اپیل بھی نہیں کی جا سکے گی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔7 جنوری۔2015ء) قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے بعد سینیٹ نے بھی آئین میں اکیسویں ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل اتفاق رائے سے منظور کرلئے‘ 78 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جمعیت علمائے اسلام ف کے اراکین نے کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ اس بل کے تحت اعلیٰ عدلیہ سے متعلق آئین کے آرٹیکل 175 اور پاکستان آرمی سے متعلق آئین کے آرٹیکل 245 میں ترمیم شامل ہیں۔

اس ترمیم کا دورانیہ دو سال ہوگا۔ جبکہ وفاقی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف مقدمہ ان خصوصی عدالتوں کو منتقل کر سکے گی۔ فوجی عدالتوں کو دہشت گردی میں ملوث ہر طرح کے عناصر ان گروپوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا اختیار حاصل ہوگاجس کے خلاف اپیل بھی نہیں کی جا سکے گی۔ منگل کے روز سینیٹ (ایوان بالا کے اجلاس کے دوران) وفاقی وزیر قانون سینیٹر پرویز رشید نے دستور (اکیسویں ترمیم) کا بل 2015 ء ایوان میں پیش کیا ایوان نے اس تحریک کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی تحریک کے حق میں 78 جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔

ایوان سے بل کی شق وار منظوری لی گئی۔ بعد ازاں وزیر قانون نے ایوان میں بل پیش کیا جسے اوپن ڈویژن کی بنیاد پر اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا اس کے حق میں 78 اراکین نے ووٹ دیا۔ اکیسویں آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ ملک میں غیر معمولی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف جنگ کا ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف تیزترین سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔ اس میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔

اس کامقصد دہشت گرد گروپوں کی جانب سے مذہب یا فرقے کا نام استعمال کرکے ہتیھار اٹھانے کا دعویٰ کرنے جبکہ مقامی اور غیر ملکی امداد کے حصول سے غیر ریاستی عناصر کو روکنا ہے۔ اس غرض سے پاکستان آرمی کے خلاف دہشت گرد گروپوں اور مذہب کا نام استعمال کرنے والے اسلحہ بردار دہشت گردوں کے ٹرائل کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ آرمی پبلک سکول پشاور میں سولہ دسمبر 2014 ء کو افسوسناک سانحہ کے بعد پاکستان کے عوام نے منتخب نمائندوں کے ذریعے پاکستان سے دہشت گردی کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی بقاء کیلئے ان اقدامات کو آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا جائے گا۔ جنگ کی صورتحال سے نمٹنے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 245 کے ذریعے پاک فوج کے دیئے گئے اختیارات سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2015 ء میں بھی ترمیم کیلئے پیش کردہ بل میں ترمیم کے بعد کسی بھی دہشت گرد گروپ یا اس سے تعلق رکھنے والے شخص جو مذہب یا مسلک کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا مسلح افواج ‘ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں‘ فوجی تنصیبات ‘ اغواء برائے تاوان ‘ کسی شخص کو قتل یا زخمی‘ بارودی مواد کی نقل و حمل اور اسے ذخیرہ کرنے میں ملوث‘ خود کش جیکٹ یا گاڑیوں کی تیاری میں ملوث ہوگا یا کسی بھی قسم کے مقامی یا عالمی ذرائع سے فنڈنگ فراہم یا مہیا کرے گا اقلیتوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں ملوث ہوگا اس کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔

یہ ترمیم دو سال کیلئے موثر رہے گی اور دو سال کے بعد از خود منسوخ ہوجائے گی۔ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی اس اکیسویں ترمیمی بل 2015 ء کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ قومی اسمبلی نے دہشت گردی کے خلاف آئین میں 21 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ1952 میں ترمیم کے بل منگل کو متفقہ طور پر منظور کر لئے ۔اسمبلی کے 245ارکان نے بلوں کے حق میں ووٹ کا حق استعمال کیااور کسی نے مخالفت نہ کی جبکہ جمعیت علماء اسلام ف اور جماعت اسلامی کے ارکان قومی اسمبلی تحفظات کے باعث اجلاس سے غیرحاضر رہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس بل کی شق وار منظوری دی گئی ۔وفاقی وزیر قانون پرویز رشید نے 21 ویں آئینی ترمیم کا بل اسمبلی میں پڑھ کر سنایا جس کی تمام کلازز پر مرحلہ وار ووٹنگ کی گئی ۔نتائج کے مطابق آئینی یا آئین میں ترمیم کے بل کے حق میں 245 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں کوئی بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا ۔وزیر قانون پرویز رشید نے آئین میں 21 ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ1952 کے ترمیمی بل کے مندرجات اسمبلی میں پڑھ کر سنائے جس پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اراکین کی رائے لیتے رہے۔

آئین میں 21 ویں ترمیم بل میں کہا گیا ہے کہ چونکہ غیر معمولی صورت حال اور حالات موجود ہیں جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی ،جنگ کرنے یا بغاوت کرنے سے متعلق بعض جرائم کی فوری سماعت مقدمہ اور مذہب یا کسی فرقے کا نام استعمال کرنے والے کسی دہشت گرد یا دہشت گرد گروپ ،مسلح گروپ،دستے اور عسکری گروپ یا ان کے اراکین کی جانب سے پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق کرنے والے افعال کی روک تھام کے لئے خصوصی اقدامات کے متقاضی ہیں۔

قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی ایکٹ1952 میں ترمیم کرنے کے بل کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے۔ایکٹ میں ترامیم کے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ غیر معمولی صورت حال اور حالات موجود ہیں جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی،جنگ کرنے یا بغاوت کرنے سے متعلق بعض جرائم کے فوری سماعت مقدمہ اور کسی دہشت گرد یا دہشت گرد گروپ اور ایسے مسلح گروپوں ،دستوں اور عسکریتی گروپوں کے افراد کی جانب سے مذہب یا کسی فرقے کا نام استعمال کرکے پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق کرنے والے افعال کی روک تھام

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

07-01-2015 :تاریخ اشاعت