حکومت نے اعتماد میں نہیں لیا اس لئے آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کرسکتے، مولانا فضل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
تاریخ اشاعت: 2015-01-06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

حکومت نے اعتماد میں نہیں لیا اس لئے آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کرسکتے، مولانا فضل الرحمان،وزیراعظم نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو مسودہ تیار کرنے میں شریک رکھا لیکن اپنی اتحادی جماعت کو تاریکی میں رکھا، پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن ۔6 جنوری۔2015ء ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اصولی طور پر فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں لیکن قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اسے قبول کیا تاہم حکومت نے ملٹری کورٹس کے لئے آئینی بل پر ہمیں تاریکی میں رکھا اس لئے اس کی حمایت نہیں کرسکتے۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر فوجی عدالتوں کے حق میں نہ تھے لیکن حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے اسے غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدام کہا گیا تو اسے تسلیم کرلیا لیکن جب آئینی مسودہ تیار ہوا تو اس وقت ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، یہ شکوہ برقرار ہے کہ وزیراعظم نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو مسودہ تیار کرنے میں شریک رکھا لیکن اپنی اتحادی جماعت کو تاریکی اور بے خبری میں رکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مسودہ پڑھا ہے اور سمجھتے ہیں کہ دہشتگردی کا خاتمہ سب کا متفقہ مسئلہ ہے اور اگر صرف اس میں مذہبی اداروں کو نشانہ بنایاجاتا ہے تو یہ متنازع ہوگا اور اس وقت تمام مذہبی ادارے حکومت، فوج اور قوم کی پشت پر ہیں اورموجودہ حالات میں تعاون کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت بضد ہے اور انہیں تصادم کی طرف لے جاناچاہتی ہے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ پہلے سیاسی تصور پراتفاق ہونا چاہیئے اور اگر بنیادی تصور پر اتفاق ہوجائے تو معاملات حل ہوں گے، جس پوزیشن میں قانون لایا جارہا ہے اس پر اپنا ووٹ نہیں دے سکتے اس لئے ہماری تجاویز کو بھی آئینی ترمیم میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ مدارس کے معاملات پربات کی جائے اور تجویز ہے کہ قانون سازی کے لئے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان