فوجی عدالتوں میں سانحہ پشاور جیسے واقعے کے دہشتگردوں پر فوکس ہوگا،اعتزاز احسن،تحفظات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

فوجی عدالتوں میں سانحہ پشاور جیسے واقعے کے دہشتگردوں پر فوکس ہوگا،اعتزاز احسن،تحفظات اپنی جگہ آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دوں گا ،عدالتوں کے قیام کا فیصلہ فوج کا نہیں نوازشریف اور چوہدری نثار کا تھا اور وہی بتا سکتے ہیں کہ اس کی ضرورت کیوں ہے، انٹرویو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 جنوری۔2015ء)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سانحہ پشاور جیسے واقعے کے دہشتگردوں پر فوکس ہوگا،تحفظات اپنی جگہ آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دوں گا ،عدالتوں کے قیام کا فیصلہ فوج کا نہیں نوازشریف اور چوہدری نثار کا تھا اور وہی بتا سکتے ہیں کہ اس کی ضرورت کیوں ہے،وزیراعظم نے بار بار اطمینان دلایا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں لیکن کوئی ٹھوس اقدام نہیں ہوا اس سے مطمئن نہیں ہوں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ ہر داڑھی والا اور ہر مدرسہ دہشتگرد نہیں ہے،عزیزبلوچ پر پاکستان ایکٹ لگے گا اگر وہ مجرم ہوئے تو اسے کڑی سزا ہوگی،لیکن اسے سپیشل کورٹس میں نہیں لایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی،اتفاق رائے یہ تھا کہ خصوصی عدالتوں کا سانحہ پشاور جیسی دہشتگردی پر فوکس ہونا چاہئے،پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں سب کے اپنے اپنے تحفظات تھے،میرے بھی تھے لیکن میں اس فیصلے کا پابند ہوں۔

انہوں نے کہا کہ فوج والوں نے اجلاس میں کہا کہ فوجی عدالتیں ہماری ضرورت نہیں ہے آپ فیصلہ کریں ،یہ فیصلہ میاں نوازشریف اور چوہدری نثار کا ہے اور اس بارے سوال بھی انہی سے کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ20نکاتی پروگرام میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا ذکر ہے اور ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے ان میں کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر مطمئن نہیں ہوں،وزیراعظم نے باربار کہا کہ وہ پرعزم ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی تعریف واضح ہے،اجلاس میں دہشتگرد تنظیموں کی فہرست اور تفصیلات نہیں دی گئیں لیکن تعریف پر کسی کو اختلاف نہیں،طالبان سے ہمدردی رکھنے والے ایک صاحب اجلاس میں موجود تھے لیکن کارروائی کا حمایتی کوئی بھی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ مدارس کا ذکر اصلاح کی وجہ سے آیا ہے،نصاب کی تبدیلی پر بھی فوکس ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تفرقہ بازی کو باہر سے بھی ہوا دی جاتی ہے اور فنڈنگ بھی آتی ہے،اس حوالے سے اجلاس میں بات نہیں ہوئی لیکن غیر ملکی فنڈنگ کو روکنے کے حوالے سے بات ہوئی ہے کہ اسے روکا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ روس کے خلاف اور افغانستان میں اپنے مقاصد کیلئے جہادی تنظیموں کو ٹریننگ دی گئی جو غلط تھا۔

04-01-2015 :تاریخ اشاعت