اتحاد و اتفاق ہ برداشت و رواداری سے انتہاپسندانہ سوچ کا مقابلہ کر سکتے ہیں، ہمارے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

اتحاد و اتفاق ہ برداشت و رواداری سے انتہاپسندانہ سوچ کا مقابلہ کر سکتے ہیں، ہمارے تمام مسائل کی ایک وجہ تعلیمات نبوی سے پہلو تہی اور احکامات کی من مانی تشریح ہے ،صدر وزیر اعظم، آج بھی اپنی زندگیاں آپ کی مبارک تعلیمات کے تابع کرلیں تو ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے اور شدت پسندی اور تشدد کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا،عیدمیلاد النبی پر قوم کے نام پیغامات

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 جنوری۔2015ء)صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ نے معلم انسانیت پیغمبر اسلام حضرت محمد کی پیدائش کے مبارک دن کے موقع پر تمام اہلیان وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہم وطنوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے اندر اتحاد و اتفاق ‘ برداشت‘ رواداری ‘ ایثار اور مفاہمتی عمل پر مبنی اوصاف پیدا کریں کیونکہ یہی وہ تعلیمات نبوی ہیں جن کو اپنا کر ہر قسم کی انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ کر سکتے ہیں،ان کاکنا ہے کہ ہمارے تماممسائل کی ایک وجہ تعلیمات نبوی سے پہلو تہی اور احکامات کی من مانی تشریح ہے ،ہم اگر آج بھی اپنی زندگیاں آپ کی مبارک تعلیمات کے تابع کرلیں تو ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے اور شدت پسندی اور تشدد کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا۔

ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماؤں نے عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پر قوم کے نام اپنے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں کیا ۔ اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ عشق رسول اور تعلیمات نبوی دو ایسے ستون ہیں جن پر ہمارے ایمان کی عمارت استوار ہے۔ آج کے مبارک دن کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم عقیدت اور محبت کی بابرکت پھوار کے دوران یہ جائزہ لیں کہ یہ عہد‘ بالخصوص مسلمان جن مسائلاک شکار ہیں‘ اس کا سبب کیا ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا عزیز وطن اور مسلم دنیا کے کچھ حصے ان دنوں انتہا پسندی اور شدت پسندی کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہوں کا خون بہہ چکاہے اور لوگ ایسے مسائل کا شکار ہوچکے ہیں جن کا بظاہر کوئی حل نظر نہیں آتا۔

اگر ہم ان حالات کا جائزہ تعلیمات نبوی کی روشنی میں لیں تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ان مسائل کی ایک وجہ تعلیمات نبوی سے پہلو تہی اور احکامات کی من مانی تشریح ہے آپ نے مساوات اور برابری کا درس دیا‘ اس سے غفلت برتی گئی۔ آپٍ نے کمزوروں ‘ عورتوں ‘ بچوں ‘ بوڑھوں اور غیر مسلح لوگوں کو امان دی‘ گمراہی پر مائل شدت پسندوں نے اسوہ حسنہ کی حیات مبارکہ سرتاپا رحمت اور شفقت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو رحمتہ اللعالمین اور محسن انسانیت کے عظیم الشان القاب سے یاد کیا گیا۔

ہم اگر آج بھی اپنی زندگیاں آپ کی مبارک تعلیمات کے تابع کرلیں تو ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے اور شدت پسندی اور تشدد کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہر طرح کی منفی سرگرمیوں سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے معاشرے میں اخوت ‘ محبت‘ برداشت ‘ اتحاد‘ بھائی چارے ‘ مفاہمت اور مذہبی رواداری کا ایک ایسا منظر پیش کیا جائے جس سے متاثر ہوکر لوگ اسلام کی طرف مائل ہونے لگیں ‘ دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔

الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نبی اکرم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی برکت سے صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنای امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔ دریں اثناء وزیراعظم محمد نوازشریف نے عیدمیلادالنبیﷺ پر تمام اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تمام ہم وطنوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے اندر اتحاد و اتفاق ‘ برداشت‘ رواداری ‘ ایثار اور مفاہمتی عمل پر مبنی اوصاف پیدا کریں کیونکہ یہی وہ تعلیمات نبوی ہیں جن کو اپنا کر ہر قسم کی انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

عیدمیلادالنبیﷺ پر قوم کے نام پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ میں آج عید میلاد النبی کے مبارک دن کی آمد پر تمام اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم اس نبی کی امت ہیں جنہیں خالق کائنات نے تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ کے ذریعے الله تعالیٰ نے پوری انسانیت کیلئے فلاح اور کامیابی کا راستہ روشن کردکھایا۔ اسلام دین فطرت ہے اور دین رحمت ہے۔ یہ مفامت‘ رواداری ‘ مذہبی ہم آہنگی ‘ صلح و آشتی‘ صبر و برداشت‘ احترام انسانیت اور افہام و تفہیم کا مذہب ہے۔

الله تعالیٰ انسانی فطرت کا خالق ہے۔ اپنے بندوں کی بہتری کیلئے اس دین کی فطرت اسلام عطا کیا۔ جو انسانیت کیلئے بہترین تحفہ ہے۔ حضور کی آفاتی شخصیت دین فطرت پر عمل کی مثال ہے۔ انسانیت کی تکمیل کیلئے جتنے فضائل و اخلاق کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ان سب کی تعلیمات ہمیں حضور نے دی ہے اور خود اس پر عمل کرکے دکھایا ہے۔ حضور کی حیات طیبہ میں سینکڑوں مراحل ایسے آئے جہاں آپ نے انتقام کے بجائے عفو و درگزر ‘ صبر و برداشت ‘ مفاہمت اورمکالمے کی حکومت عملی سے کام لیا۔

آپ سے محبت کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم گفتار کے ساتھ ساتھ کردار اور عمل میں سنت کی پیروی کریں۔ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں فرمائی جس پر خود عمل کرکے نہ دکھایا ہو جس دن ہم پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگیوں میں شامل کرلیں گے اُسی دن سے ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرے کا منظر پیش کرنے لگے گا۔ موجودہ حکومت نے وطن عزیز میں ترقی و خوشحالی کے سفر کا آغاز کردیا ہے۔ انشاء الله بہت جلد ہم ترقی کے مزید اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

آج میری تمام ہم وطنوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے اندر اتحاد و اتفاق ‘ برداشت‘ رواداری ‘ ایثار اور مفاہمتی عمل پر مبنی اوصاف پیدا کریں کیونکہ یہی وہ تعلیمات نبوی ہیں جن کو اپنا کر ہر قسم کی انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ الله تعالیٰ ہم سب کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے ‘ ہمیں محسن انسانیت حضور اقدس کی شفاعت نصیب فرمائے اور پاکستان کو امن و سکون کا مثالی گہوارہ بنائے۔

04-01-2015 :تاریخ اشاعت