آئین میں مجوزہ 21ویں ترمیم دو سال کیلئے ہے جس کے بعد یہ آئین سے منہاء ہوجائیگی،مذہب ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

آئین میں مجوزہ 21ویں ترمیم دو سال کیلئے ہے جس کے بعد یہ آئین سے منہاء ہوجائیگی،مذہب اور فرقہ کے نام پر کام کرنے والے دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی موجودہ غیرمعمولی حالات کا تقاضہ ہے، قوم کی منتخب کردہ قیادت نے دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کے لئے آئین کے آرٹیکل 175اور جدول اول میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں،قومی اسمبلی میں پیش کی گئی 21 ویں آئینی ترمیم کے بل کا متن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 جنوری۔2015ء)آئین میں مجوزہ 21ویں ترمیم دو سال کے لئے کی جارہی ہے جس کے بعد یہ آئین سے منہا ہوجائے گی،مذہب اور فرقہ کے نام پر کام کرنے والے دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی موجودہ غیرمعمولی حالات کا تقاضہ ہے اور قوم کی منتخب کردہ قیادت نے دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس کے لئے آئین کے آرٹیکل 175اور جدول اول میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں اور مسلح افواج کے قوانین سمیت تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

وزیر قانون پرویز رشید کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی آئین میں 21 ویں ترمیم کے بل کے متن کے مطابق ملک میں غیر معمولی حالات اور صورت حال دہشت گردی ،پاکستان کے خلاف جنگ ،پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے اقدامات،دہشت گرد گروپوں کی طرف سے مذہب یا کسی فرقے کے نام کا استعمال اور مسلح گروپوں ،ونگز اور ملیشیاز کے ارکان کے خلاف کارروائی سمیت مختلف جرائم کے ارتکاب پر تیزی سے ٹرائل کا تقاضا کرتی ہے۔

اس وقت پاکستان کی سالمیت اور بانیان پاکستان کے طے شدہ آئینی مقاصد کو دہشت گردوں کی طرف سے درپیش غیر معمولی خطرے ،مذہب یافرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے یا مزاحمت اور غیر ملکی و مقامی وسائل سے ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائی اس بل کا مقصد ہے۔مذہب یا فرقے کا نام استعمال کرنے والے دہشت گردوں سمیت ان گروپوں کے خلاف کارروائی کے لئے یہ بل لایا جارہا ہے جو مسلح افواج کے خلاف لڑتے ہیں اور ان کے مقدمات کی سماعت سیکشن 2 میں کی گئی ترمیم کے مطابق بننے والی عدالتوں میں کی جائے گی ۔

پاکستان کی عوام کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

04-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان