خصوصی فوجی عدالتوں کو مذہب اور فرقہ کا نام استعمال کرتے ہوئے ہتھیاراٹھانے، بغاوت،مسلح ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

خصوصی فوجی عدالتوں کو مذہب اور فرقہ کا نام استعمال کرتے ہوئے ہتھیاراٹھانے، بغاوت،مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں،اغوا برائے تاوان،فوجی و سول تنصیبات اور مذہبی اقلیتوں پر حملوں کے ملزمان اور اس مقصد کیلئے سازش اور معاونت کرنیو الوں کے خلاف مقدمات سننے کا اختیار ہوگا،وہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کی مختلف شقوں میں دیئے گئے جرائم پر بھی کارروائی کر سکیں گی ، وفاقی حکومت سے پیشگی اجازت ضروری نہ ہوگی، وفاقی حکومت دیگر عدالتوں میں چلنے والے اس قسم کے مقدمات بھی ان فوجی عدالتوں کو منتقل کر سکے گی،آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کا متن، لفظ ”فرقہ“ سے مراد مذہبی فرقے ہیں، قانون کے تحت الیکشن کے لئے رجسٹرڈ کوئی سیاسی جماعت مراد نہیں،بل میں وضاحت

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 جنوری۔2015ء )قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے پاکستان آرمی (ترمیم) ایکٹ 2015ء کے مطابق خصوصی فوجی عدالتوں کو مذہب اور فرقہ کا نام استعمال کرتے ہوئے ہتھیاراٹھانے،بغاوت،مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں،اغوا برائے تاوان،فوجی و سول تنصیبات اور مذہبی اقلیتوں پر حملوں کے مرتکب ملزمان اور اس مقصد کیلئے سازش اور معاونت کرنیو الوں کے خلاف مقدمات سننے کا اختیار ہوگاجبکہ وہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کی مختلف شقوں میں دیئے گئے جرائم پر بھی کارروائی کر سکیں گی ، اس مقصد کیلئے وفاقی حکومت سے پیشگی اجازت ضروری نہ ہوگی، وفاقی حکومت دیگر عدالتوں میں چلنے والے اس قسم کے مقدمات بھی ان فوجی عدالتوں کو منتقل کر سکے گی۔

بل میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس میں دیئے گئے لفظ ”فرقہ“ سے مراد مذہبی فرقے ہیں، قانون کے تحت الیکشن کے لئے رجسٹرڈ کوئی سیاسی جماعت مراد نہیں۔وزیر قانون پرویز رشید کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیمی بل کے متن کے مطابق ملک میں غیر معمولی حالات اور صورت حال دہشت گردی ،پاکستان کے خلاف جنگ او بغاوت وسرکشی ،پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے اقدامات،دہشت گرد گروپوں کی طرف سے مذہب یا کسی فرقے کے نام کا استعمال اور مسلح گروپوں ،ونگز اور ملیشیاز کے ارکان کے خلاف کارروائی سمیت مختلف جرائم کے ارتکاب پر تیزی سے ٹرائل کا تقاضا کرتی ہے۔

چونکہ اس وقت پاکستان کی سالمیت کو دہشت گردوں کی طرف سے درپیش غیر معمولی خطرے ،مذہب یافرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے یا مزاحمت اور مذہب یا فرقہ کے نام پر مقامی و غیرملکی وسائل سے کام کرنے والے گروہوں سے خطرات درپیش ہیں۔ ضروری ہے کہ ان دہشتگرد گروپوں جو مذہب یا فرقے کا نام استعمال کررہے ہیں ان میں سے جو پکڑے گئے یا مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے الے اداروں کی طرف سے پکڑے جائینگے ان کیخلاف اس ایکٹ کے تحت قائم عدالت میں مقدمات چلائے جائینگے آئین کا آرٹیکل 245مسلح افواج کو جنگ کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کا اختیار دیتا ہے اس قانون کو آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2015قرار دیا گیاہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا ترمیم شدہ ایکٹ میں دی گئی شقیں نفاذ کے بعد دو سال کیلئے موثر ہونگی اور اس عرصے کے بعد ختم ہوجائینگی تاہم پارلیمان کے ہر ایوان سے قرارداد کی منظوری کے ذریعے اس مدت کو توسیع دی جاسکتی ہے ۔

ترمیمی بل میں آرمی ایکٹ 1952کے سیکشن 2میں ترمیم تجویز کی گئی ہے اور سب سیکشن 1کی کلاز ڈی کے بعد شامل سب کلاز iiکے بعد نئی سب کلاز iiiشامل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص جو کسی ایسے دہشتگرد گروپ یا تنظیم سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرے یا اس کے بارے میں معلومات ملے جو مذہب یا فرقے کا نام استعمال کرتا ہوں اور پاکستان کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا جنگ یا پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں یا پاکستان میں کسی سول یا فوجی تنصیب پر حملوں یا اغواء برائے تاوان یا کسی کو ہلاک یا زخمی کرنے کا ملزم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

04-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان