نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کردیاگیا، چوہدری نثار،دہشتگردوں ان کی مالی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
تاریخ اشاعت: 2015-01-04
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کردیاگیا، چوہدری نثار،دہشتگردوں ان کی مالی معاونت کرنے والوں اور ملک کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز،اب پاکستان کے گلی کوچوں میں عوام کو بھی دہشتگردوں کے خلاف شعور دینا ہوگا، ملک سے انتہا پسندی، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیاسی عسکری قیادت متفق ہیں، تمام دہشتگردانہ کارروائیوں کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات پہلے فراہم کی جاتی رہی ہیں،وزیر داخلہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 جنوری۔2015ء)وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کردیاگیا،دہشتگردوں ان کی مالی معاونت کرنے والوں اور ملک کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز،افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور مرحلہ وار واپسی شروع،میڈیا دہشتگردوں کے بیانات شائع نہ کرے،فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر دہشتگردوں کو سپورٹ کرنے والوں کیخلاف کارروائی اور ایسی تمام سائٹس بند کرنے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا،انہوں نے کہا کہ ملک سے انتہا پسندی،عسکریت پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت متفق ہیں،اب پاکستان کے گلی کوچوں میں عوام کو بھی دہشتگردوں کے خلاف شعور دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس کسی بھی سیاستدان،مدرسے،تاجر،صحافی اور عام شہری کے خلاف استعمال نہیں ہونگے،ہمارا عدالتی سسٹم بے حد مضبوط ہے اور ہمیں اس پر مکمل اعتماد ہے،ملٹری کورٹس کا مطلب ان عدالتوں پر عدم اعتماد نہیں ہے،عام عدالتیں بھی معمول کے مطابق کام کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالتوں کا مطلب یہ نہیں کہ جو بھی ان عدالتوں میں جائے اسے سرا ملے گی،بہت سے بے گناہ افراد بھی ہوں گے اگر کسی کے خلاف کچھ ثابت نہ ہو تو اس کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی،میڈیا عوام کی یہ غلط فہمی دور کرے کہ ملٹری کورٹس سے ہر ایک کو سزا یا پھانسی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ ملٹری کورٹس ہیں کوئی کینگرو کورٹس نہیں یہ بھی ایک قانون کے تحت کام کرتے ہیں اور ہر ایک کو صفائی کا پورا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون پاکستان کے عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ ان دہشتگردوں کے خلاف ہے جو مسجدوں،سکولوں،بازاروں کو نشانہ بناتے ہیں اور ہمارے فوجیوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہیں،خصوصی عدالتوں میں صرف ان کیخلاف مقدمہ چلے گا جو کسی آئین وقانون کے تابع نہیں ہوتے،جن کا کوئی مذہب نہیں ہے،جب وہ پکڑے جائیں تو وکیلوں اور ججز کو دھمکیاں دیتے ہیں،ایسے افراد کو جہاں بھی پکڑا جائے گا انہیں ملٹری کورٹس میں پیش کیا جائے گا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت جو حالات ہیں اس میں خصوصی عدالتوں کا قیام ناگزیر تھا،اس وقت پوری قوم حالت جنگ میں ہے اورجنگی حالات میں اس طرح کے اقدامات کئے جاتے ہیں،9/11کے بعد امریکہ کی سپریم کورٹ کی باقاعدہ منظوری کے ساتھ ملٹری ٹریبونل بنے تھے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے جس کے تحت اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے،جس کے تحت وفاق اور صوبوں میں کالعدم تحریک طالبان اور ان کی معاونت کرنے والے ان پر سرمایہ لگانے والے منصوبہ سازوں اور منصوبوں میں حصہ لینے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیاگیا ہے،تمام انٹیلی جنس اداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں شروع کردی ہیں جس کے تحت گزشتہ چند دنوں میں 400سے زائد انٹیلی جنس آپریشنز میں100دہشتگرد مارے جاچکے ہیں جبکہ250سے زائد کو گرفتار کیا گیا ہے،بعض مخصوص مدارس جن کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں کسی نہ کسی طورپر ملوث ہیں ان کے خلاف دینی مدارس کے رہنماؤں اور علمائے کرام اور دینی جماعتوں کو مکمل اعتماد میں لیکر کارروائی کریں گے اور اس سلسلے میں جلد ہی اے پی سی کی متعلقہ کمیٹی مدارس کے علمائے کرام سے بات چیت کرے گی،صرف ان مدارس کے خلاف کارروائی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

04-01-2015 :تاریخ اشاعت