گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے صر ف تجاویز زیر غور ہیں، وزیر مملکت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے صر ف تجاویز زیر غور ہیں، وزیر مملکت برائے پٹرولیم، اضا فے کے معا ملے پر ایوان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔گھریلو صارفین کو سستی گیس فراہم کی جا تی ہے‘ اس وقت گیس میں 62 ارب کے نقصان کا سامنا ہے۔ جام محمد کمال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3 جنوری۔2015ء) وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل جام محمد کمال نے کہا کہ اوگرا بڑے منظم انداز میں کمپنیوں کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے‘ گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے یہ افواہیں ہیں تجاویز زیر غور ہیں جب بھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا تو ایوان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔گھریلو صارفین کو سستی گیس فراہم کی جا تی ہے‘ اس وقت گیس میں 62 ارب کے نقصان کا سامنا ہے۔

جمعہ کے روز سینیٹ اجلا س میں توجہ مبذول نوٹس پر جواب دیتے ہوئے ایل این جی کی اپنی قیمت ہے اسے ایل پی جی سلنڈر میں تبدیل نہیں کیا جارہا۔ ملک کے 60 فیصد علاقوں میں قدرتی گیس نہیں بلکہ سلنڈر ہی استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان موسمی ایل این جی نہیں خریدے گا کیونکہ باقی ممالک جو ایل این جی خریدتے ہیں وہ موسمی گیس خریدتے ہیں۔ ایل این جی کی قیمت خرید کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ کتنے پر خریدی جائے گی۔

مارچ تک ایل این جی ملک میں آجائے گی۔ توجہ مبذول نوٹس میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا جوکہ ملکی وسائل کا حصہ ہے‘ غلط ہے اور اب یہ فیصلہ کیا جارہا ہے کہ پائپ لائن گیس کے ذریعے نہیں بلکہ ایل پی جی سلنڈر کے ذریعے صارف کو گیس دی جائے گی۔ یہ عذاب ہے عوام پر کہ 65 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے یہ فیصلہ حکومت واپس لے اگر نہیں لیتی تو ہم دھرنا دیں گے۔

اس کیخلاف یہ فیصلہ کیا نہیں بلکہ کرچکے ہیں۔ توجہ مبذول نوٹس پر اے این پی کے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ گیس ملک کی اپنی پیداوار ہے۔ میں کامل علی آغا کی بات سے متفق ہوں۔ دنیا میں قیمتیں کم ہورہی ہیں اور ہم قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ قطر کیساتھ ایل این جی کی بات ہورہی ہے تو اس وقت پوری دنیا میں قیمتیں کم ہوئیں تو کیا حکومت 19 ڈالر پر خریدے گی یا کم قیمت پر خریدے گی۔ توجہ مبذول نوٹس پر سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ گیس کی قیمت میں 65 فیصد اضافے کی وجہ بتائی جائے۔

دو کمروں کے گھر کا بجلی کا بل 90 ہزار روپے جبکہ گیس کا 45 ہزار روپے آیا ہے۔ ایک مہینے کا میرے پاس بل موجود ہے۔ ملک کے اندر پیدا ہونے والی قدرتی گیس کی قیمت کا یہ حال ہے تو پھر ملک میں مہنگائی زیادہ ہوگی۔ توجہ مبذول نوٹس پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ ایل این جی کے متعلق خبریں آرہی ہیں کہ حکومت 18 ڈالر میں خرید رہی ہے جبکہ بھارت 8 ڈالر میں خرید چکا ہے۔ حکومت اوگرا کو ابھی سے ایک پلیٹ فارم دے رہی ہے کہ 10 سے 65 فیصد اضافہ گیس میں کیا جائے گا۔

03-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان