قومی اسمبلی ، حکومتی و اپوزیشن اراکین کی سانحہ پشاور کی شدید مذمت، دہشتگردی کو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
تاریخ اشاعت: 2015-01-03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

قومی اسمبلی ، حکومتی و اپوزیشن اراکین کی سانحہ پشاور کی شدید مذمت، دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ ، سانحہ پشاور ایسا المیہ ہے جس نے پوری قوم کو متحد کردیا ، ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا ، کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ سے متعلق اوپن جواب طلبی کرنی ہوگی تب قوم مطمئن ہوگی، عمر ایوب خان، الطاف حسین نے دہشگردوں سے پہلے آگاہ کردیا تھا،2009ء میں صوفی محمد سے معاہدہ کیا لیکن فائل کچھ نہیں ہوا دہشتگردوں نے مزید سکولوں پر حملے کی دھمکی دیدی ہے ،عبدالوسیم ، ملک بھرمیں امن وامان کا مسئلہ ہے اس لئے اس مسئلے پر سب جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے، شیر اکبر خان ،پشاور واقعہ نے پوری قوم کو رلا کر رکھ دیا، دیکھا جو پھول جنازوں پر ہوتے ہیں اپنے پھولوں کے جنازے اٹھائے جارہے تھے، عائشہ سید کا سانحہ پشاور رپر بحث کے دوران اظہار خیال ،قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح دس بجے دوبارہ ہو گا

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3 جنوری۔2015ء ) قومی اسمبلی میں حکومتی و اپوزیشن اراکین کی جانب سے جمعہ کو بھی سانحہ پشاور کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی مکمل انکوائری کر ا کے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ، مسلم لیگ (ن) کے عمر ایوب خان نے کہا کہ سانحہ پشاور ایسا المیہ ہے جس نے پوری قوم کو متحد کردیا ، وقت کی ضرورت ہے ہم قومی مفاد کو ترجیح دیں ہمیں اپنے قوانین پر نظر ثانی کرنی ہوگی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے راستے کا تعین کرنا ہوگا آرمی پبلک سکول سانحہ کو صرف مذمت تک نہیں رہنا چاہیے ساری قوم بے حس ہو چکی ہے سکیورٹی اداروں کا احتساب کرنا ہوگا ،حکومت کو بھی خود اپنا احتساب کرنا ہوگا،کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ کے متعلق اوپن جواب طلبی کرنی ہوگی تب قوم مطمئن ہوگی،ایم کیو ایم کے عبدالوسیم نے کہا قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے دہشگردوں سے پہلے آگاہ کردیا تھا،2009ء میں صوفی محمد سے معاہدہ کیا لیکن فائل کچھ نہیں ہوا دہشتگردوں نے مزید سکولوں پر حملے کی دھمکی دیدی ہے ، جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے کہا کہ ملک بھرمیں امن وامان کا مسئلہ ہے اس لئے اس مسئلے پر سب جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے، عائشہ سید نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے واقعہ نے پوری قوم کو رلا کر رکھ دیا اور وہاں پر دیکھا کہ جو پھول جنازوں پر ہوتے ہیں اپنے پھولوں کے جنازے اٹھائے جارہے تھے۔

اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو آدھا گھنٹہ تاخیر سے سپیکر اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں شروع ہوا اس موقع پر ایم این اے شائستہ پرویز کی والدہ کی وفات پر امین الحسنات نے دعا کرائی۔ سانحہ پشاور پر جاری بحث کے آغاز میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے عمر ایوب خان نے کہا کہ ایسا المیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پیش آیا ہے اور جس طرح دہشتگردوں نے درندگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ملک متحد ہوگیا ہے میرے آبائی گاؤں میں بھی آرمی پبلک سکول کے نونہال کو سپرد خاک کیا گیا جس کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا اب ہمیں ہر حالت میں اقدامات اٹھانے ہونگے ۔

وزیراعظم نواز شریف نے سینٹ میں بالکل ٹھیک تقریر کی ہم اراکین سے قوم پوچھتی ہے کہ کیا دہشتگردوں کو ہلاک کیا جائے گا یا نہیں ملٹری کورٹس پر قوم کو بتانا ہوگا کہ دہشتگردوں کو صحیح سزائیں دی جائینگی ایک لاکھ دہشتگردوں کو پھانسی دینے سے مسائل حل نہیں ہوسکتے قومی مسئلے کو حل کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں ایک جامع حل تلاش کرنا ہوگا ملک میں دہشتگردی افغان جنگ سے آئی ہے وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں قومی مفاد کو ترجیح دیں ہمیں اپنے قوانین پر نظر ثانی کرنی ہوگی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے راستے کا تعین کرنا ہوگا آرمی پبلک سکول سانحہ کو صرف مذمت تک نہیں رہنا چاہیے ساری قوم بے حس ہو چکی ہے سکیورٹی اداروں کا احتساب کرنا ہوگا کہ انہوں نے سستی کا مظاہرہ کیوں کیا،حکومت خود اپنا احتساب کرنا ہوگا پولیس آئی بی اور انٹیلیجنس اداروں سے کسی بھی دہشتگردی کے واقع کے متعلق اوپن جواب طلبی کرنی ہوگی تب قوم مطمئن ہوگی۔

ایم این اے عائشہ سید نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے واقعہ نے پوری قوم کو رلا کر رکھ دیا اور وہاں پر دیکھا کہ جو پھول جنازوں پر ہوتے ہیں اپنے پھولوں کے جنازے اٹھائے جارہے تھے ایم کیو ایم کے عبدالوسیم نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کے حوالے سے جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے لیکن قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے دہشگردوں سے پہلے آگاہ کردیا تھا اور اب ہم ملٹری کورٹس اور الیکشن پلان بنارہے ہیں لیکن پچھلے ادوار میں دہشتگردوں کی مکمل فیور کی گئی اور 2009ء میں صوفی محمد سے معاہدہ کیا لیکن فائل کچھ نہیں ہوا دہشتگردوں نے مزید سکولوں پر حملے کی دھمکی دیدی ہے اور اگر سانحے میں ہمارے بچے دہشتگردی کا شکار ہوگئے تو پھر ہماری کیفیت کیا ہوگی 143 بچوں کی شہادت کے بعد ہمیں ایک قوم بننے کا خیال آیا لیکن یہ دہشتگردی تو ایک دہائی سے چلی آرہی ہے ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا اور یک زبان ہوکر ایک فیصلہ کرنا ہوگا ۔

جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سولہ دسمبر کا سانحہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس سانحہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں کیونکہ ملک بھرمیں امن وامان کا مسئلہ ہے اس لئے اس مسئلے پر سب جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے ہمیں ایوان کی بالادستی کا کہا جاتا ہے لیکن ہم لوگوں کے پاس کیا اختیارات ہیں عوام کے جان ومال کی ذمہ داری حکومت کی ہے ۔ ہمارے ملک میں کرپشن دوسرا بڑا مسئلہ ہے جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی اس وقت ملک میں امن نہیں ہوگا ہمیں اپنے اوپر دوسروں کی جنگ مسلط نہیں کرنی چاہیے ہم امریکہ کے اتحادی ہیں ہمیں امریکی پالیسیوں اور اتحاد سے نکلنا ہوگا جب تک انتظامیہ عدلیہ ، مقننہ اور عسکری قیادت سر جوڑ کر نہیں بیٹھے گی اس وقت تک امن نہیں ہوگا ۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا امیر زمان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کی مذمت کرتا ہوں جب تک جس ملک میں امن نہیں ہوگا اس ملک میں کوئی کاروبار نہیں ہوسکتا ملک میں اتنی دہشتگردی کے بعد آج سیاسی اور عسکری قیادت وزیراعظم ہاؤس میں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں وزیر داخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں دینی مدارس میں اچھی تعلیم دی جاتی ہے کالے شیشے والی گاڑیوں میں دہشتگردوں کو لایا جاتا ہے پاکستان کو امریکہ کی جنگ سے نکلنا ہوگا ورنہ افغانستان اور پاکستان میں بہت خون ریزی ہوگی یہاں پر کچھ لوگوں کے کتے مکھن کھاتے ہیں اور کچھ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں آج کی فوجی عدالتیں خود حکومت کے گلے میں پڑ جائینگی ۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

03-01-2015 :تاریخ اشاعت