کراچی،سندھ حکومت کا گیس چوری ،لیکج سے غیر درج شدہ مقدار میں اضافے ، قیمتوں کے لائحہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
پچھلی خبریں -

کراچی

تلاش کیجئے

کراچی،سندھ حکومت کا گیس چوری ،لیکج سے غیر درج شدہ مقدار میں اضافے ، قیمتوں کے لائحہ عمل میں تبدیلی اور گیس انفراسٹریکچر ڈولپمنٹ سیس کے تحت وصول رقم سے حصہ وصول کرنے کیلئے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ،فیصلہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔یکم جنوری ۔2015ء)سندھ حکومت نے ای سی سی کی سفارشات پر ملکی سطح پر گیس کی چوری یا لیکج کی وجہ سے غیر درج شدہ مقدار میں اضافے ، ماڑی گیس کی قیمتوں کے لائحہ عمل میں تبدیلی اور گیس انفراسٹریکچر ڈولپمنٹ سیس کے تحت وصول شدہ رقم سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ ہاوٴس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں وزیرخرانہ سید مراد علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری(منصوبہ بندی وترقیات)محمد وسیم، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، سیکریٹری انرجی آغاواصف، سیکریٹری خرانہ سہیل راجپوت، ایڈوکیٹ جنرل فتاح ملک، ڈائریکٹر آئل اینڈ گیس محکمہ انرجی طارق علی شاہ دیگر افسران نے شرکت کی اور بحث ومباحثے میں حصہ لیا، اس موقع پر وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے اقتصادی رابطہ کونسل کی سفارش پر سندھ حکومت سے مشاورت کے بغیر ہی چوری ولیکج کی وجہ سے گیس ملکی سطح پر غیر درج شدہ مقدار کو4.5 فیصد سے بڑھاکر 9 فیصد کردیا ہے جبکہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت اب یہ معاملہ سی سی آئی کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہئے تھا، انہوں نے بتایا کہ اس اضافے کے بعد سندھ گیس انفراسٹریکچر ڈولپمنٹ سیس کی مد میں بہت زیادہ مالی نقصان ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح وفاقی حکومت نے سندھ کی مشاورت کے بغیر ماری گیس کی قیمتوں کے میکزم میں تبدیلی کرتے ہوئے اس کو کردی آئل سے منسلک کرتے ہوئے اپنا مالی تعاون ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے وفاقی حکومت ماری گیس کے تمام اخراجات اٹھارہی تھی اورگیس کی پیداواری قیمت 0.73 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی جبکہ قیمت فروخت 123 روپے تھی اور اب وفاقی حکومت کی طرف سے مالی تعاون ختم ہونے کے بعد گیس کی قیمت پیداوار 1.87 ڈالر جبکہ قیمت فروخت 187 روپے فی ایم ایم بی ٹو یو ہوجائیگی جس سے سندھ حکومت کو فی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

01-01-2015 :تاریخ اشاعت