اسلام آباد، سینیٹ قائمہ کمیٹی پانی و بجلی کا اجلاس نیپرا کیلئے بھاری گزرا ،وزیراعظم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
تاریخ اشاعت: 2015-01-01
- مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

اسلام آباد، سینیٹ قائمہ کمیٹی پانی و بجلی کا اجلاس نیپرا کیلئے بھاری گزرا ،وزیراعظم کو خط لکھا جائے بجلی کے سلیبز کو2 سے واپس 5 کیا جائے، اجلاس میں فیصلہ ، آڈٹ کمپنیاں آج تک پتہ نہیں چلا سکیں کہ اوور بلنگ کتنی کی گئی،چیئرمین نیپرا کا انکشافکمیٹی کو اوور بلنگ کے حوالے سے بند کمرے میں آگاہ کرنے کی تجویز پر چیئرمین کمیٹی سخت برہم بجلی بلوں میں اضافہ نیپرا کے سلیبز میں تبدیلی سے ہوا، نیپرا حکومت اور وزارت سے زیادہ بااختیار ادارہ بن چکا ہے،سینیٹر زاہد خان

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔یکم جنوری ۔2015ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پانی و بجلی کا بدھ کے روز اجلاس نیپرا کے لئے بھاری گزرا چیئرمین کمیٹی سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں اضافہ نیپرا کی طرف سے سلیبز میں تبدیلی کی وجہ سے ہوا نیپرا حکومت اور وزارت سے زیادہ بااختیار ادارہ بن چکا ہے وزیر مملکت نے کمیٹی کے پچھلے اجلاس میں کہا تھا کہ بجلی پر سرچارج نیپرا نے لگایا لیکن نیپرا کمیٹی کے آج کے اجلا س میں بھی اس بات پر بضد ہے کہ بجلی پر سرچارج کا اختیار ہمارا نہیں یہ حکومت نے لگایا ہے سینیٹر زاہد خان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے سنجیدہ ہی نہیں حکومت نے 18 ماہ میں ہاہیڈرل پاور منصوبوں سے بجلی پیدا کرنے پر بالکل توجہ نہیں دی اربوں روپے میٹرو بس اور جنگلہ بس پر خرچ کیے جارہے ہیں کمیٹی کے آج کے اجلا س میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ وزارت پانی و بجلی کے ذریعے وزیراعظم کو خط لکھا جائے کہ بجلی کے سلیبز کو2 سے واپس 5 کیا جائے چیئرمین نیپراطارق سدوزئی نے انکشاف کیا کہ آڈٹ کمپنیاں آج تک پتہ نہیں چلا سکیں کہ اوور بلنگ کتنی کی گئی اور کمیٹی کو اوور بلنگ کے حوالے سے بند کمرے میں آگاہ کرنے کیلئے کہا جس پر چیئرمین کمیٹی سخت برہم ہوئے اور ممبران کمیٹی نے بھی چیئرمین نیپرا کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنے کیلئے کہا جس پر چیئرمین نیپرا طارق سدوزئی بضد رہے کہ 74 فیصدصارفین 2سو سے کم یونٹ استعمال کرتے ہیں سلیبز تبدیل ہونے کے باوجود ان کے بلوں پر اضافہ نہیں ہوا 7 سو یونٹ استعمال کرنے والے 25 فیصد صارفین کو اضافی بل ادا کرنا پڑا اور آگا ہ کیا کہ 2 سو سے 3 سو یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 232 روپے 3 سو سے 7 سو یونٹس استعمال کرنے والوں کو 1028 اور 7 سے زائد یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو 19 سوروپے اضافی ادا کرنے پڑے جس پر سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ صرف ایک یونٹ کے اضافے سے پانچوں سلیبز کے صارفین کو کئی گنا اضافی بل دینا پڑا اور صارفین سے دیا گیا ریلیف بھی واپس لیا جا رہا ہے اور دوسری طرف حکومت نے 60 پیسے فی یونٹ قیمت میں اضافہ بھی کر دیا ہے قائمہ کمیٹی کا مقصد کسی کی تذلیل نہیں قومی مفاد میں حکومت کو سفارشات بھجوائی جاتی ہیں اور عوامی مفاد میں محکمہ جات کو عوام کے خلاف اقدامات سے روکا جاتا ہے نیپرا کی غلط بیانی نہیں چلے گی کوئی خفیہ معاملہ ہے تو کمیٹی میں آگاہ کیا جائے جس پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت عمر رسول نے تسلیم کیا کہ حکومت کے پاس بجلی پر اضافی سرچارج لگانے کا قانونی اختیار ہے چیئرمین نیپرا سے سینیٹر نثار محمد نے سوال کیا کہ وہ کمیٹی کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنے سے کیوں گریزں ہیں وزارت پانی و بجلی اور وزیر مملکت اگر اوور بلنگ کی ذمہ داری نیپرا پر ڈال رہے ہیں تو نیپرا پنی پوزیشن کی وضاحت کرے کمیٹی کے اجلاس میں گولن گول ڈیم کے حوالے سے سینیٹر نثار محمد کی رپورٹ کو جامع مفصل اور حقائق پر مبنی قرار دیا گیااور ممبر واپڈا اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت دی گئی کہ کمیٹی کو غلط بیانی کرنے والے افیسر کے خلا ف سخت کارروائی کی جائے جس پر سینیٹر نثار محمد نے برہمی کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ اب بھی گولن گول ڈیم پر کام بند ہے میں نے خود موقع پر دورہ کیا ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

01-01-2015 :تاریخ اشاعت