طالبان سے مذاکرات میں ناکامی کا علم تھا ، سیا سی دباو کے باعث عمل شروع کیا گیا ، وزیر دفاع،طالبان کے خلاف کارروائی میں افغان حکومت کی حمایت بھی انتہائی ضروری ہے، خواجہ آصف کا بی بی سی کو انٹرویو

ہفتہ 20 دسمبر 2014 09:44

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔20دسمبر۔2014ء )وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت کو طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کا علم تھا لیکن سیاسی دباوٴ کے باعث وہ راستہ اختیار کیا گیا جبکہ جس دوران مذاکرات ہوئے اس وقت آپریشن ہونا چاہئے تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا کہ طالبان کے ساتھ جن چار ماہ میں مذاکرات کیے گئے اس وقت ان کے خلاف فوجی آپریشن کرنا چاہئے تھا لیکن حکومت نے سیاسی دباوٴ کے باعث مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جبکہ ہمیں علم تھا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے لیکن اس کے باوجود پوری کوششیں کیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد جون میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز کیا کیونکہ کئی تجربوں سے یہی سیکھا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے ان کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہوسکتا ہے اس لیے ہمیں پہلے ان کا خاتمہ کرنا ہوگا جبکہ طالبان کے خلاف کارروائی میں افغان حکومت کی حمایت بھی انتہائی ضروری ہے۔

(جاری ہے)

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک میں جو بھی شدت پسندی کی حمایت کرے وہ پاکستانی نہیں ہے اور یہ ایسے عناصر ہیں جو ہمارے بچوں کے قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے مددگار ہیں، ایسے لوگ ہمارے نہیں بلکہ دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں پہلی بار تمام سیاسی قیادت اور جماعتیں ایک ہی پیج پر ہیں جو بہت نایاب سیاسی اتفاق ہے۔