سیہون ،ْ درگاہ لعل شہباز قلندر میں ہونے والے خود دھماکے میں شہداء کی تعداد 80ہوگئی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:33:27 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:33:24 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:33:21 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:33:17 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:33:15 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:31:08 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:28:47 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:28:45 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:26:30 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:26:28 وقت اشاعت: 17/02/2017 - 14:26:26
پچھلی خبریں - مزید خبریں

سیہون ،ْ درگاہ لعل شہباز قلندر میں ہونے والے خود دھماکے میں شہداء کی تعداد 80ہوگئی

سخت سکیورٹی اور پولیس کے پہرے کے باوجود زائرین کی بڑی تعداد پہنچ گئی ،ْ رکاوٹوں کو توڑ کر اندر داخل , مشتعل افراد کی بڑی تعداد نے اے ایس پی سیہون کے گھر اور دفتر کا گھیراؤ کرلیا ،ْ پولیس موبائل نذر آتش

سیہون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2017ء)عقیدت مندوں اور زائرین کی دعاؤں ،ْمنتوں اور دھمال کے دوران درگاہ لعل شہباز قلندر میں ہونے والے خوفناک خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 80 تک پہنچ گئی۔ سیہون تعلقہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کے مطابق تعلقہ ہسپتال میں موجود 75 لاشوں میں سے 13 کی شناخت اب تک ممکن نہیں ہوسکی اور وہ تاحال ہسپتال میں ہی موجود ہیں تاہم باقی میتوں کو شناخت کے بعد لواحقین کے سپرد کردیا گیا۔

دوسری جانب نواب شاہ ہسپتال منتقل گئے زخمیوں میں سے بھی 5 افراد جان کی جازی ہار گئے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 210 زخمیوں کو تعلقہ ہسپتال سیہون لایا گیا تھا۔دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر سخت سیکیورٹی اور پولیس کے پہرے کے باوجود صبح سویرے زائرین کی بڑی تعداد درگاہ کے سیل دروازوں پر پہنچی اور رکاوٹوں کو توڑ کر اندر داخل ہوگئی۔

مشتعل افراد کی بڑی تعداد نے اے ایس پی سیہون کے گھر اور دفتر کا گھیراؤ کرلیا اور وہاں موجود پولیس موبائل کو نذر آتش کردیاجس کے بعد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی ادھر دھماکے کے بعد فضا سوگوار رہی ،ْ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے 3 روزہ سوگ کے اعلان کے بعد سندھ کی تمام اہم عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔
Read this news in English
17/02/2017 - 14:31:08 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان