اسلام آباد ہائیکور ٹ نے راحیل شریف کی تصاویر والے متنازعہ بینرز آویزاں کرنے پر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:12:12 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:01:30 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:00:18 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:10:40 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:10:39 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:10:38 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:10:33 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:30:45 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:08:41 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:08:40 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 23:08:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد ہائیکور ٹ نے راحیل شریف کی تصاویر والے متنازعہ بینرز آویزاں کرنے پر درج مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصاویر والے متنازعہ بینرز آویزاں کرنے پر درج مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مذکورہ مقدمے میں ٹرائل کورٹ میں پیش کئے گئے چالان اور دیگر کارروائی کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔ تھانہ سیکرٹریٹ میں درج ایف آئی آر نمبر 100/16 کے اخراج کے لئے موو آن پاکستان کے چیئرمین محمد کامران ، سنٹرل آرگنائزر علی رضا اور کارکن آصف اقبال نے رٹ پٹیشن دائر کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مذکورہ درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف کمشنر اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ’’اب آ جا?‘‘ جملے کے پیچھے کسی سازش یا غداری کو ثابت نہیں کر سکے ، چیف آف آرمی سٹاف کی تصویر کے ساتھ ’’اب آ جاو ٴ‘‘ کے الفاظ سے کوئی سازش ثابت نہیں ہوتی، ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ کو یہ مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ موو آن پاکستان کے کارکنان کے خلاف مقدمے کا اندراج غیرقانونی ہے لہٰذا اسے خارج کیا جائے۔ واضح رہے کہ تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو متنازعہ بینرز کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کی ترغیب دینے کے الزام میں موو آن پاکستان پارٹی کے ذمہ داران کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 120B ، 124A ، 505(ii) اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

دوران سماعت ملزمان کے وکیل سردار تیمور اسلم نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ پولیس وفاقی یا صوبائی حکومت کی شکایت کے بغیر یہ مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی ، پولیس نے ’’جانے کی باتیں ہوئیں پرانی ، خدا کے لئے اب آ جاؤ‘‘ کی اپنی تشریح کر کے مقدمہ درج کیا ہے ، مقدمہ درج کرنے کے لئے قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا اسے خارج کرنے کا حکم دیا جائے۔

11/01/2017 - 23:10:38 :وقت اشاعت