طیبہ تشدد کیس، سپریم کورٹ نے متاثرہ بچی کو پاکستان سویٹ ہوم بھیجوا دیا، پو لیس ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:58:07 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:58:07 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:58:07 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:58:07 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:02:10 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:56:40 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:56:40 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:43:33 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:56:39 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:56:39 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:56:39
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

طیبہ تشدد کیس، سپریم کورٹ نے متاثرہ بچی کو پاکستان سویٹ ہوم بھیجوا دیا، پو لیس کو 10 روز میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء) سپریم کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی اہلیہ کی جانب سے اپنی کمسن ملازمہ طیبہ پر تشدد کے حوالے سے از خود نو ٹس کیس میںپو لیس کو 10 روز میں ایماندارانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی آئی جی پو لیس خود واقعہ کی تفتیش کی نگرانی کر تے ہوئے مقررہ مدت میں تحقیقاتی رپورٹ عدالت کوپیش کریں، عدالت نے متاثرہ بچی طیبہ کو پاکستان سویٹ ہوم بھیجوا تے ہوئے واضح کیا ہے کہ بچی کے والدین کا تعین ہونے تک طیبہ سویٹ ہوم میں رہے گی ، جہاں پولیس کو ہر طرح کی رسائی حاصل ہو گی، عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ طیبہ کے والدین کی صلح کروانے والے وکیل راجہ ظہور الحسن، بچی کو ایڈیشنل سیشن جج کے گھر بھجوانے والی نادرا نامی خاتون اور بچی کے والدین کو اسلام آباد آنے کے لئے اپنی گاڑی فراہم کرنے والے رائے عثمان کھرل کو بھی شامل تفتیش کیاجائے۔

بدھ کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثاراور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ڈی آئی جی اسلام آباد کاشف عالم، ایس پی ساجد کیانی، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبد الروف، اسسٹنٹ کمشنر پوٹھوہار نِشا اشتیاق بچی کے والدین ہونے کے دعویدار بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت شروع ہوئی تو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے واقعہ کے حوالے سے عدالت کو ا پنی رپورٹ پیش کرنے کے ساتھ متاثرہ بچی اور اس کے حقیقی والد اعظم اورماں نصرت کو عدالت میں پیش کیا۔

چیف جسٹس نے آئی جی سے پوچھا کہ عدالت کوبتایا جائے کہ واقعہ کے حوالے سے کیا تحقیقات کی گئی ہیں۔ آئی جی نے بتایا کہ بچی پرتشددکی میڈیکل رپورٹ آ گئی ہے۔ وہ موبائل بھی ہماری تحویل میں ہے جس سے پہلی تصویر لی گئی ہے اور موبائل ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے کہ اس عمل کے دوران کس کس کاآپس میں رابطہ ہوا تھا۔ ہم جلد کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 22:56:40 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان