جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ سے ملک بھر کے پونی2 لاکھ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:43:32 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:43:32 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:43:32 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:24:02 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:24:01 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:24:00 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:17:51 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:17:49 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:17:49 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:17:49 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:17:47
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ سے ملک بھر کے پونی2 لاکھ طلبا و طالبات اپنی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہیں،اگر 70سال قبل یہ تعلیمی فنڈ قائم ہوجاتا تو آج 2کروڑ سے زائد ہونہار بچے اوربچیاںاعلی تعلیم حاصل کرچکے ہوتے،اعلی تعلیم صرف اشرافیہ کی میراث نہیں اس پر پاکستان کے ہر بچے کا حق ہے ،پنجاب حکومت یہ حق انہیں دے رہی ہے ، نیلم جہلم پاور پراجیکٹ میں تاخیر سابق ڈکٹیٹر مشرف اور اس کے بعد آنے والی حکومت کی کرپشن اورنااہلی کا ثبوت ہے،منصوبے میں تاخیر کے باعث اس کی لاگت میں370ارب روپے کا اضافہ غریب قوم پر بڑا ظلم ہے ،پاکستان کو موجودہ صورتحال میں پہچانے کے سب ذمہ دار ہیں،ہم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑے مارے،ماضی کی غلطیوںپر رونے دھونے کی بجائے ہمیں محنت ،امانت اوردیانت کو شعار بنا کرآگے بڑھنا ہے

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کاایوان اقبال میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کی تقریب سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء اور پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ملک بھر کے مالی مشکلات سے دوچار1لاکھ 75ہزار سے زائدطلبا وطالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں ۔ ساڑھے 17ارب روپے کے اس تعلیمی فنڈکی آمدن سے اب تک ساڑھے 7ارب روپے کے وظائف میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کیے جاچکے ہیں ۔

کاش یہ تعلیمی فنڈ70سال قبل معرض وجود میں آجاتا تو آج پونے دو لاکھ کی بجائے 2کروڑ سے زائدہونہار بچے اوربچیاں اپنی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہوتے۔وہ بدھ کو ایوان اقبال میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اعلی تعلیم صرف اشرافیہ کی میراث ہی نہیں اس پرپاکستان کے ہر بچے کا حق ہے ۔پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے غریب گھرانوں کے ہونہار بچوں پر اعلی تعلیم کے درواوزے کھلے ہیںاوراس فنڈسے صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ،گلگت بلتستان، آزاد کشمیراورپاکستان بھر سے طلبا و طالبات مستفید ہورہے ہیں ۔

نوجوان پاکستان کا عظیم سرمایہ اور اثاثہ ہیں اورملک و قوم کے مستقبل و خوشحالی کی کنجی ان نوجوانوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔پنجاب حکومت نے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ قائم کر کے قوم کے تابناک مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے ۔گزشتہ 70برسوں میں پاکستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا اوروسا ئل کی اس لوٹ مار سے ملک میں غربت بڑھی، انتہاء پسندی آئی ،ہسپتالوں،سکولوں اورملکی اداروں میں اندھیرے چھاگئے۔

اشرافیہ نے پاکستان کا معاشی قتل کیا۔2014ء میں جب پاکستان نے ترقی کا سفر شروع کیا توبلاجواز کے دھرنوں نے قومی معیشت کا دھڑن تختہ کردیا ،اگرخدانخواستہ ان عناصر کا لاک ڈاؤن کامیاب ہوجاتا تو شاید سی پیک کے تحت لگنے والے منصوبے ہی رک جاتے اور ملک قوم کی مشکلات اور بڑھ جاتیں۔وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے اور وہ وقت دورنہیں جب ملک سے بجلی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے اورملک میں ترقی اورخوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کو نوجوانوں کا زیور کہا جاتا ہے اورپنجاب حکومت نے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ قائم کر کے پونے دولاکھ طلبا و طالبات کو اس زیور سے حقیقی معنوں میں آراستہ کیا ہے اوراس سے بہتر طریقے سے شاید قائداعظم محمد علی جناحؒ کی روح کی تسکین اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا کوئی اوربہتر طریقہ نہیں ہوسکتا۔ انہوںنے کہا کہ یہ مشہورکہاوت ہے کہ ہمیشہ پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے نہ کے کنواں پیاسے کے پاس آتا ہے ۔

پیف ایسا ادارہ ہے جو میرٹ کے پاس جاتا ہے جبکہ میرٹ پیف کے پاس نہیں آتا۔پنجاب ایجوکیشنل فنڈمحنت ،امانت ، دیانت کی کامیاب کہانی ہے۔جس نے قوم کے غریب بچے بچیوں پر معیاری تعلیم کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔اس فنڈ سے قوم کے نوجوان ڈاکٹرز، انجینئرز، بینکرز، ٹیچرزبن رہے ہیں اورملک کی تعمیر وترقی میں اپنا بھر پور کردارادا کررہے ہیں ۔ اعلی تعلیم صرف اشرافیہ کا حق بن کررہ گیا تھا جبکہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ نے یہ حق حقداروں تک پہنچا دیا ہے ۔

اس فنڈ کے تحت غریب گھرانوں کے ذہین بچے اوربچیا ں ملکی اورغیر ملکی یونیورسیٹوں میں اعلی تعلیم حاصل کررہے ہیں ،لیکن ابھی بھی قوم کے نگینے تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔ میرا یقین ہے کہ اگرانہیں تعلیمی مواقعوں کی فراہمی کیلئے وسائل دیئے جائیں تو چند سالوں میں پاکستان کی قسمت بدل جائے گی۔انہوںنے کہا کہ وزراء اعظم، وزراء ،وزرائے اعلی،ججز، جرنلز،تاجروں اورسیاستدانوں کے بچے تودنیا کی معروف یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کرے جبکہ کروڑوں عظیم پاکستانیوں کے بچے وسائل کی کمی کی وجہ سے اس سے محروم رہیں، اسے قائدؒاور اقبال ؒکا پاکستان نہیں کہا جاسکتا۔

انہوںنے کہا کہ ہم نے چندروزقبل بانی پاکستان کا یوم پیدائش منایا۔خوب تقریریں کی گئی،مکالے پڑھے گئے لیکن اگلے ہی روزقائداعظمؒ کے ارشادات اورفرمودات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ وہی روش اپنالی گئی۔انہوںنے کہا کہ جناح ہسپتال میں قصور کی مریضہ چار ہسپتالوں میں دھکے کھانے کے بعد ہسپتال کے فرش پر اپنے خالق حقیقی سے جاملی۔اگریہ مریضہ کسی وزیراعلیٰ، وزیر،جج یا کسی اعلی افسر کی ہوتی تو پورا ہسپتال اس مریضہ کے بیڈ کے پاس موجود ہوتااوراس کو علاج بھی ہوتالیکن اس کی غربت اس کا جرم بن گئی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ جب پاکستانی بغیر کسی ویزے کے برطانیہ اورجرمنی جاسکتے تھے اورائیرپورٹ پر ہی ان کا ویزا لگ جاتا تھااورآج دنیا کے ائیرپورٹوں پر سبز پاسپورٹ کی توقیر نہیں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 22:24:00 :وقت اشاعت