سندھ کے 31ویں گورنر سعید الزماں صدیقی انتقال کر گئے،سندھ میں ایک روزہ سوگ کا اعلان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:14:10 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:14:08 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:14:07 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:09:24 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:06:21 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:06:21 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:36:47 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:36:47 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:04:53 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:04:50 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:04:48
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سندھ کے 31ویں گورنر سعید الزماں صدیقی انتقال کر گئے،سندھ میں ایک روزہ سوگ کا اعلان

صدر وزیر اعظم سمیت سیاسی و سماجی رہنمائوں کا اظہار افسوس

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)سندھ کے 79 سالہ گورنر جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی بدھ کی شام کراچی میں انتقال کر گئے ہیں، وہ صوبے کے 31 گورنر تھے،انکی ‘ نماز جنازہ اور تدفین آج(جمعرات کو) کراچی میں ہوگی، سندھ حکومت نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کر دیا، قومی پرچم سرنگوں رہے گا ، صدر ممنون حسین‘ وزیراعظم محمد نواز شریف ‘ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ‘ سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے گو رنر سندھ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق سعید الزمان صدیقی بدھ کی شام ایک نجی ہپستال میں انتقال کر گئے ہیں، انھوں نے گذشتہ سال 11 نومبر کو گورنر کا حلف لیا تھا۔دریں اثناء سندھ حکومت نے آج ایک روزہ سوگ کا اعلان کر دیا، آج جمعرات کو قومی پرچم سرنگوں رہے گا، گورنر سندھ سعید الزمان صدیقی کے انتقال کے بعد سندھ حکومت نے صوبے میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے، سندھ کے تمام سرکاری اداروں میں آج سوگ ہوگا اور قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری سندھ کو گورنر کی تدفین کے تمام انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی گذشتہ کئی سالوں سے بیمار تھے۔گورنر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے وہ کئی روز تک ہسپتال میں بھی زیر علاج رہے اور بیشتر وقت حالت علالت میں گذارا۔سندھ کے 79 سالہ گورنر سعید الزمان صدیقی سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کانفلیکٹ ریزولیوشن سینٹر نامی قانونی ادارہ چلانے کے علاوہ ڈیفنس ریزیڈنس ایسو سی ایشن میں سرگرم تھے۔

سنہ 2008 میں مسلم لیگ نواز نے انھیں سابق صدر آصف علی زرداری کے مقابلے میں اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کی پیدائش یکم دسمبر سنہ 1937 کو لکھنؤ میں ہوئی۔انھوں نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں حاصل کی اور اس کے بعد ان کا خاندان ڈھاکہ منتقل ہو گیا جہاں سے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور ڈھاکہ سے کراچی آگئے۔

یہاں انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے قانون اور فلسفے کی ڈگری حاصل کی اور 1960 میں سندھ ہائی کورٹ سے وکالت شروع کر دی ۔سنہ 1970 کی دہائی میں وہ بار کی سیاست میں سرگرم رہے اور سنہ 1980 میں انھیں سندھ ہائی کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔سنہ 1990 میں وہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے لیکن یہ عرصہ صرف ایک ماہ پر محیط تھا اس کے بعد انھیں سپریم کورٹ میں جج تعینات کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور اس وقت کی میاں نواز شریف حکومت میں اختلافات سامنے آئے تو سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے سجاد علی شاہ کو معطل کر دیا، جس کے بعد جسٹس اجمل میاں چیف جسٹس بنے اور بعد میں جسٹس سعید الزمان صدیقی نے یہ جگہ لی۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم اصغر خان کیس کی سماعت بھی جسٹس سعید الزمان صدیقی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 22:06:21 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان