سعد رفیق نے جماعت اسلامی کو آئندہ عام انتخابات میں سیاسی اتحاد کیلئے لیگی قیادت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:02:52 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:02:51 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:02:50 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:02:49 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:02:48 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:02:47 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:00:22 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:00:21 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:00:15 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:00:13 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 22:00:11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

سعد رفیق نے جماعت اسلامی کو آئندہ عام انتخابات میں سیاسی اتحاد کیلئے لیگی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کردی

انتخابات میں صرف اڑھائی سال رہ گئے جو اڑھائی مہینوں کی طرح گزر جائیں گے، ابھی سے معاملات طے کرنے کا آغازکرنا ہوگا ورنہ ماضی کی طرح آخری دو تین مہینوں میں بات بننے سے رہ سکتی ہے، وفاقی وزیر ریلوے کا سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی یاد میںمنعقدہ سیمینار سے خطاب , جماعت اسلامی آئندہ عام انتخابات میں نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والوں اور کرپشن سے پاک افراد کے ساتھ سیاسی اتحاد بناسکتی ہے،امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی آفر کا براہ راست جواب دینے سے گریز , قاضی اتحاد امت کے قائد اور مسلکی و جماعتی اختلافات سے بالاتر شخصیت تھے،آج ان کے مشن پر پہلے سے زیادہ عمل کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان کو قاضی حسین احمد کے نظریات پر عمل کرکے ہی موجودہ مسائل سے باہر نکالا جاسکتا ہے، قاضی حسین احمد اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے ، علامہ عارف واحدی ، خورشید احمد نظیر، ثاقب نثار ،زرین قریشی ،آصف لقمان قاضی اور دیگر کا خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے جماعت اسلامی پاکستان کو آئندہ عام انتخابات میں سیاسی اتحاد قائم کرنے کیلئے ابھی سے ن لیگی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہاہے کہ انتخابات میں صرف اڑھائی سال رہ گئے جو اڑھائی مہینوں کی طرح گزر جائیں گے ابھی سے معاملات طے کرنے کا آغازکرنا ہوگا ورنہ ماضی کی طرح آخری دو تین مہینوں میں بات بننے سے رہ سکتی ہے،امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سعد رفیق کی آفر کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آئندہ عام انتخابات میں نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والوں اور کرپشن سے پاک افراد کے ساتھ سیاسی اتحاد بناسکتی ہے۔

بدھ کو دونوں رہنما یہاں ایوان اقبال میںادارہ فکر وعمل کے زیراہتمام سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی یاد میںمنعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پروفیسرخورشید احمد،اسد اللہ بھٹو،قاضی حسین احمد کے فرزند اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر آصف لقمان قاضی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور قاضی حسین احمد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قاضی اتحاد امت کے قائد اور مسلکی و جماعتی اختلافات سے بالاتر شخصیت تھے،آج ان کے مشن پر پہلے سے زیادہ عمل کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان کو قاضی حسین احمد کے نظریات پر عمل کرکے ہی موجودہ مسائل سے باہر نکالا جاسکتا ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ قاضی صاحب نے ساری زندگی ایک دن کی طرح گزاری وہ نہ صرف جماعت اسلامی اور پاکستان کے رہنما تھے بلکہ پورے عالم اسلام کے قائد بھی تھے۔پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کیلئے ساری زندگی جدوجہد کی اور تمام مسالک کے ماننے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا،انہوں نے زیادہ وقت اپنی جماعت کی بجائے پاکستان اور عالم اسلام میں اتحاد و یکجہتی کیلئے سرف کیا،بوسنیا،کشمیر اور فلسطین کے رہنما انہیں اپنا رہبر و رہنما سمجھتے تھے،علامہ محمد اقبال ان کے آئیڈیل تھے اور انہوں نے ساری زندگی اقبال کے فلسفے جھپٹنے پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے پر عمل کرتے ہوئے گزاری،قاضی حسین احمد بظاہر فوت ہوگئے لیکن ان کا نظریہ آج نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں زندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نا صرف پاکستان کی عوام نے قاضی حسین احمد کے ساتھ انصاف نہیں کیا بلکہ جماعت اسلامی بھی ان کے ساتھ انصاف نہ کرسکی،جماعت اسلامی ان کی رفتار میں رکاوٹ بنتی تھی،ہماری اپنی تنظیم اگر ان کی رفتار کاساتھ دے پاتی اور رکاوٹیں کھڑی نہ کرتیں تو وہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں کامیاب ہوجاتے،قاضی حسین احمد اللہ کی راہ میں شہادت چاہتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ’’اسٹیٹس کو‘‘ کا موجودہ نظام ناکام ہوگیا ہے۔آج ملک میں کرپشن اور دہشتگردی کا دور دورہ ہے،ان مسائل کا علاج صرف اسلامی انقلاب میں ہے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اور بانیان پاکستان کے نظریات میں کوئی اختلاف نہیں ہے،آج جماعت اسلامی علامہ اقبال اور قائداعظم کے نظریات کے مطابق پاکستان کی تشکیل کیلئے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر آئین کی دفع62اور63پر عمل ہوا تو پارلیمنٹ میں صرف جماعت اسلامی کے لوگ رہ جائیں گے،یہ صرف سراج الحق کو نہیں پوری جماعت اسلامی کیلئے کریڈیٹ ہے۔یہ صرف آج کی بات نہیں قاضی حسین احمد کی زندگی میں جب نوازشریف اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ تھے تو اس کے رکن کی حیثیت سے قاضی حسین احمد نے نوازشریف سے مطالبہ کیا کہ اتحاد کے ٹکٹ ان لوگوں کو جاری

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 22:02:47 :وقت اشاعت