پبلک اکائونٹس کمیٹی کا ایف بی آر کی جانب سے 4 ارب روپے کے اضافی ری فنڈز پر برہمی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:43:14 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:43:13 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:43:12 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:43:12 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:43:10 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:41:13 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:41:11 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:41:10 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:41:05 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:41:04 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 19:46:36
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

پبلک اکائونٹس کمیٹی کا ایف بی آر کی جانب سے 4 ارب روپے کے اضافی ری فنڈز پر برہمی کا اظہا ر

ایف بی آ ر کے سسٹم میں بہتری آ نے سے سیلز ٹیکس ان پٹ کے ریفنڈ کے رواں سال 120 ارب روپے کے کم کلیم آئے ہیں،جن افسران نے کارکردگی نہیں دکھائی انکے خلاف انکوائری کر رہے ہیں،ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم میں بہتری کے لئے 500ملین کا منصوبہ منظو ر کیا گیا ہے، ایف بی آر کے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں کمی آ نے کا تا ثر درست نہیں، ایسا الیکٹرانک نظام شروع کردیا ہے جس سے غلط ایڈجسٹمنٹ نہیں کرائی جاسکے گی،چیئرمین ایف بی آر نثار محمد خان کی کمیٹی کوبریفنگ , وصولیوں کے حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی پیروی کیلئے ماہر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں،پی اے سی نے ایف بی آر سے تمام سرکاری محکموں کے ذمہ واجبات کی تفصیلات طلب کر لیں

اسلام آ باد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء) قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ایف بی آر کی جانب سے 4 ارب روپے کے اضافی ری فنڈز پر برہمی کا اظہا رکیا،چیئرمین ایف بی آر نثار محمد خان نے کمیٹی کو آگاہ کیاکہ ایف بی آ ر کے سسٹم میں بہتری آ نے سے سیلز ٹیکس ان پٹ کے ریفنڈ کے رواں سال 120 ارب روپے کے کم کلیم آئے ہیں،جن افسران نے کارکردگی نہیں دکھائی انکے خلاف انکوائری کر رہے ہیں،ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم میں بہتری کے لئے 500ملین کا منصوبہ منظو ر کیا گیا ہے، ایف بی آر کے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں کمی آ نے کا تا ثر درست نہیں، ہم نے ایسا الیکٹرانک نظام شروع کردیا ہے جس سے غلط ایڈجسٹمنٹ نہیں کرائی جاسکے گی،پی اے سی نے ایف بی آر سے تمام سرکاری محکموں کے ذمہ واجبات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کہ کہ ریکوریوں کے حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی پیروی کے لئے ماہر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں ۔

بدھ کو سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اجلاس میںفیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آڈٹ رپورٹ 14۔2013 کیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کوآگاہ کیا کہ ایف بی آر کے 11 فیلڈ دفاتر میں 105 ٹیکس گزاروں کو اضافی ری فنڈز دیئے گئے۔کراچی اور لاہور میں 4 ارب روپے کے اضافی ری فنڈز پر پی اے سی نے تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میںسی این جی اسٹیشنز سے چار ارب سولہ کروڑ سیلز ٹیکس ان پٹ کی ریکوری کا معاملہ بھی زیر غور لایا گیا۔

پی اے سی اراکین نے ایف بی آر پر اظہار برہمی کیا۔ پبلک اکائونٹ کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ نے کہا کہ آڈٹ کو اتنی بڑی رقم نظر آ گئی ایف بی آر کو کیوں نہیں نظر آئی۔ایف بی آر کے کورٹ کیسز کمزور ہیں جسکے باعث ریکوری نہیں ہو رہی۔ چیئرمین ایف بی آر نثار محمد خان نے کمیٹی کو آگاہ کیاکہ سیلز ٹیکس ان پٹ میں رواں سال 120 ارب روپے کے کم کلیم آئے ہیں۔

سسٹم کو بہتر کرنے سے کلیم میں کمی آئی۔جن افسران نے کارکردگی نہیں دکھائی انکے خلاف انکوائری کر رہے ہیں ۔ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم میں بہتری کے لئے 500ملین کا منصوبہ منظو ر کیا گیا ہے ۔ایف بی آر کے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں کمی آ نے کا تا ثر درست نہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 21:41:13 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان