تعلیمی فنڈ سے مکینک،مزدور،کسان کے غریب بچے،ڈاکٹر ز،انجینئرز اورچارٹرڈاکاؤنٹنٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:31:31 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:31:31 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:31:30 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:31:30 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:31:30 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:31:29 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:29:53 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:29:52 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:29:52 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:29:51 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 21:29:50
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

تعلیمی فنڈ سے مکینک،مزدور،کسان کے غریب بچے،ڈاکٹر ز،انجینئرز اورچارٹرڈاکاؤنٹنٹ بن گئے

غریب ڈرائیور کا بیٹا ہوں،لمز جیسے تعلیمی ادارے میں حصول تعلیم کا کبھی سوچا بھی نہ تھا‘سافٹ ویئر انجینئرمحمد آصف , پیف نے کچے گھروں میںرہنے والے ہونہاربچوں اوربچیوں کا تعلیمی خواب پورا کردکھایا ہے،پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کی تقریب میں مختلف پیف سکالرز کا اظہار خیال

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)ایوان اقبال میں منعقدہ تقریب کے دوران پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے پیف سکالرز نے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے تعلیمی وظائف کے پروگرام کو رجحان ساز اور انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی وظائف کی فراہمی سے ہونہار غریب بچوں اور بچیوں کیلئے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے ہیں اور جو خواب ہم نے اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے وہ پورے ہوئے ہیں، جس پر ہم وزیراعلیٰ شہبازشریف کے شکرگزار ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے پسماندہ ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور کی پہلی پیف سکالر ڈاکٹر گلشن شیدنے بتایا کہ میرے والد ٹی وی مکینک ہیں اور ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ جام پور جیسے پسماندہ علاقے میں لڑکی کیلئے تعلیم حاصل کرنا بہت معنی رکھتا ہے۔ میں نے میٹرک میں 91 فیصد نمبر حاصل کئے لیکن کالج میںداخلے کیلئے گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے تھے۔ پھرمجھے پیف کا خط موصول ہوا اور میں نے وظیفے کے ذریعے تعلیم مکمل کی۔

ایف ایس سی میں 88 فیصد نمبر آئے لیکن آگے میڈیکل کالج میں داخلہ پھر وسائل کے باعث مشکلات کا شکار تھا۔ایک بار پھر پیف میری مدد کو آیا ۔ والد نے خاندان کی مخالفت کے باوجود مجھے ایم بی بی ایس کرنے لاہور بھجوایا۔ میں اب ڈاکٹر بن چکی ہوں اور یہ سب وزیراعلیٰ کے اس تعلیمی وظائف کے پروگرام کے باعث ممکن ہوا ہے۔ میری ایک اور بہن بھی تعلیمی وظیفے کے ذریعے ڈاکٹر بن رہی ہے جبکہ دوسری بہن بھی پیف کے وظیفے کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں میری دوسری پوزیشن آئی ہے۔ تعلیمی وظیفے نے ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے اور میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ پنجاب حکومت نے غریب بچوں اور بچیوں کیلئے ہر طرح کے وسائل فراہم کئے ہیں۔ ڈاکٹر گلشن کے والد عبدالرشید اور والدہ روبینہ بی بی نے بھی سٹیج پر آ کر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف غریب بچوں اور بچیوں کیلئے جو شاندار کام کر رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔

ہم شہبازشریف کے بے پناہ شکرگزار ہیں۔ لمز جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے والے ایک ڈرائیور کے بیٹے محمد آصف نے کہا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں لمز جیسے ادارے میں تعلیم حاصل کروں گا کیونکہ میرے والد ایک ڈرائیور ہیں اور ان کے اتنے وسائل نہیں کہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 21:31:29 :وقت اشاعت