اسٹیٹ بینک نے سی ڈی این ایس کو کلیئرنگ ہائوس کی رکنیت لینے کی اجازت دے دی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:59:39 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:59:30 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:55:59 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 19:01:47 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:41:13 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:41:11 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:32:28 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:32:21 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:32:16 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:48:44 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:23:29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

اسٹیٹ بینک نے سی ڈی این ایس کو کلیئرنگ ہائوس کی رکنیت لینے کی اجازت دے دی

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء) بینک دولت پاکستان نے عوام کو سہولت دینے کے لئے سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (سی ڈی این ایس) کو کلیئرنگ ہائوس کی رکنیت لینے کی اجازت دیدی۔ مرکزی بینک سے بدھ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ سی ڈی این ایس کے پنشنرز بینی فٹ اکائونٹ (پی بی ای)، بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ (بی ایس سی) اور سیونگ اکائونٹ (ایس ای) سے متعلق منافع کا کوپن/رقم نکلوانے کی رسیدیں قبول کریں۔

اب سرمایہ کار ان آلات کو پاکستان میں کسی بھی مقام سے براہِ راست اپنے بینک کھاتوں میں جمع کرا سکتے ہیں۔ سی ڈی این ایس ان آلات کو نفٹ کے ذریعے کلیئر کرے گا۔ نیشنل سیونگز کی جانب سے کامیاب کلیئرنس کی رسید ملتے ہی بینک سرمایہ کاروں کے متعلقہ کھاتوں میں رقم کریڈٹ کردے گا۔ اس اقدام سے سی ڈی این ایس کے سرمایہ کاراپنے بینکوں میں موجود اکائونٹس میں براہِ راست منافع/کریڈٹ کی وصولی کے قابل ہو سکیں گے اور یہ عوام کے لئے ایک مستعد اور محفوظ طریقہ کار ہوگا۔

یاد رہے کہ سی ڈی این ایس کی کلیئرنگ ہائوس کی رکنیت سے قبل اس کے سرمایہ کاروں کو اپنا ماہانہ منافع وصول کرنے کے لئے ذاتی طور پر قومی بچت مراکز جانا پڑتا تھا۔ یہ بات سرمایہ کاروں خصوصا بیوائوں اور بزرگ شہریوں کے لئے زحمت کا باعث تھی جو اپنا منافع لینے کے لئے لمبی قطاروں میں انتظار کرتے تھے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس اقدام کی اعانت ادائیگی کا ایک جدید اور متحرک نظام وضع کرنے کے متعلق اس کے تزویراتی مقصد سے ہم آہنگ ہے تا کہ اسٹیٹ بینک اسٹریٹجک پلان 2016-2020 ء کے تحت عوام کو مستعد، محفوظ اور کم لاگت کی حامل ادائیگی کی خدمات مہیا کی جا سکیں۔
11/01/2017 - 20:41:11 :وقت اشاعت