چیئرمین سینیٹ کا باچا خان انٹر نیشنل ایئر پورٹ پشاور کی خستہ حالی کا نوٹس ، معائنے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:05:43 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:05:43 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:05:42 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:02:09 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:02:07 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:02:05 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:28:22 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 20:01:56 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 19:59:52 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:16:28 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 19:54:23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

چیئرمین سینیٹ کا باچا خان انٹر نیشنل ایئر پورٹ پشاور کی خستہ حالی کا نوٹس ، معائنے کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کردی

باچا خان ہوائی اڈے کی حالت زار کی بہتری کیلئے 3 ارب روپے مختص کر دئیے گئے، اس پر کام بھی شروع ہو چکا ہے ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کا توجہ دلائو نوٹس پرجواب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے باچا خان انٹر نیشنل ایئر پورٹ پشاور کی خستہ حالت کا نوٹس لیتے ہوئے ہوائی اڈے کے معائنے کے لئے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ۔ یہ کمیٹی خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ پر مشتمل ہوگی جبکہ حکومت کی جانب سے ایوان بالا کو بتایا گیا ہے کہ اس بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لئے تین ارب روپے مختص کر دئیے گئے ہیں اور کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

بدھ کے روز ایوان بالا میں تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے باچا خان انٹرنیشنل ائر پورٹ پشاور کی خستہ حالت جسے حال ہی میں ایشیاء کے بدترین ائر پورٹس میں سے ایک قراردیا گیا ہے سے متعلق توجہ مبذول کرانے کا نوٹس پیش کیا ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے اعتراف کیا کہ حالت زار کے بارے میں یہ توجہ درست ہے بہتری کے لئے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں اور اب تک پندرہ کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں ۔

ہوائی اڈے کے حواے سے مشکلات سے آگاہ ہیں جس کی وجہ سے تین ارب روپے مزید مختص کر دئیے گئے ہیں۔ا س رقم سے ہوائی اڈے کے حال میں ائرکنڈیشنڈ اور دیگر سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ ہوائی اڈا 1927 ء میں قائم ہوا تھا اس کی کل اراضی 574 ایکٹر ہے جس میں صرف 27 ایکٹر سول ایوی ایشن کے پاس ہے جس پر ائرپورٹ کی عمارت اور رن وے بنے ہوئے ہیں باقی زمین فوج کے پاس ہے وہی ان زمینوں کو استعمال کر رہی ہے۔

اس معاملے پر سپیشل کمیٹی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 20:02:05 :وقت اشاعت