وزیرقانون و انصاف زاہد حامد اتفاق رائے سے پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 19:45:15 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 19:45:09 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 19:14:38 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:47:36 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:47:36 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:47:35 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:47:34 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:47:33 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:47:32 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:47:30 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 18:32:25
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

وزیرقانون و انصاف زاہد حامد اتفاق رائے سے پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کے چیئرمین منتخب

اپوزیشن جماعتوں کا فوج و عدلیہ سمیت سب کے بلاتفریق احتساب کونئے قانون میں شامل کرنے کا مطالبہ , قانون کی تیاری کیلئے سابقہ دور میں احتساب ایکٹ کیلئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) مابین ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات احتساب کمیشن کے بارے میں چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف کے پیش بلز پارلیمانی کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت ،ابتدائی طور پر کمیٹی کے دائرہ اختیار کی منظوری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)وزیرقانون و انصاف زاہد حامد کو اتفاق رائے سے پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا ،اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے نومنتخب چیئرمین کو مبارکباد دی ہے،احتساب کا جامع اور موثر قانون بنے گا اپوزیشن جماعتوں نے بلاتفریق احتساب بشمول فوج و عدلیہ کو اس قانون میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا ،قانون کی تیاری کیلئے سابقہ دور میں احتساب ایکٹ کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات احتساب کمیشن کے بارے میں چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف کے پیش بلز پارلیمانی کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی،ابتدائی طور پر کمیٹی کے دائرہ اختیار کی منظوری دے دی گئی ہے۔

بدھ کو پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس کے آئینی روح میں ہوا۔وزیرمملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے کمیٹی کی چیئرمین شپ کیلئے وزیرقانون زاہد حامد کا نام تجویز کیا۔سینیٹر جاوید عباسی،سینیٹر سعود مجید نے تائید کی، کسی جماعت نے زاہد حامد کو کمیٹی کا سربراہ بنانے کی مخالفت نہیں کی، اس طرح اتفاق رائے سے زاہد حامد چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون منتخب ہوگئے ہیں۔

سید نوید قمر،شاہ محمود قریشی اور صاحبزادہ طارق اللہ نے احتساب قانون پر نظر ثانی کیلئے دونوں ایوانوں کی 20رکنی کمیٹی کے قیام کے باوجود نیب قانون میں ترمیم کیلئے آرڈیننس جاری کرنے کی سخت مخالفت کی۔سید نوید قمرنے صدارتی آرڈیننس کو کمیٹی کی توہین قراردیا۔شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا کہ حکومت آرڈیننس سے دستبردار ہویا کمیٹی کو تحلیل کردیاجائے۔

صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ 20اگست2016کو قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی طرف سے احستاب بل پیش کرچکے ہیں،حکومت نے بالکل اس جامع بل کو کوئی اہمیت نہیں دی،اب عدالت عظمیٰ کی وجہ سے آرڈیننس لے آئے جب کہ حکومت پلی بارگین سمیت دیگر شقوں پر نظرثانی کا بلز کی صورت میں موقع ملا تھا،ان بلز پر وسیع تر اتفاق رائے موجود ہے۔زاہد حامد نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ پلی بارگین اور رضاکارانہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 18:47:35 :وقت اشاعت